عائشہ علی قتل کیس میں ماں اور محبوبہ مجرم قرار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پوسٹ مورٹم رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ عائشہ کی ہلاکت سر پر چوٹ یا چوٹیں لگنے سے ہوئی

لندن میں ایک عورت اور اس کی محبوبہ کو جس نے انٹرنیٹ پر ایک تخیلاتی دنیا بنا رکھی تھی اپنی آٹھ سالہ بیٹی کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

مشرقی لندن کی رہائشی عائشہ علی 50 سے زائد زخموں کے ساتھ اگست 2013 میں اپنے بستر میں مردہ پائی گئی تھی۔

عائشہ کی 35 سالہ ماں پولی چوہدری اور اس کی 43 سالہ محبوبہ کیکی مدار کو قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کے مدار نے کس طرح پولی چوہدری کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر فرضی دوستوں کے ذریعے چالاکی سے اپنے جال میں پھنسایا۔

’گندا خون‘

وکیلِ استغاثہ رچرڈ وٹم نے عدالت کو بتایا کہ عائشہ کے ساتھ ’بہت طویل عرصے تک بدسلوکی ہوئی‘ اور اس کو ’کچھ افراد تشدد کہیں گے‘۔

جیوری کو بتایا گیا کہ لندن کے علاقے اِلفرڈ کی رہائشی کیکی مدار نے فیس بک پر فرضی لوگوں اور ٹیکسٹ میسیجز کے ذریعے پولی چوہدری کو اس کی بیٹی کے خلاف ورغلایہ۔

کیکی مدار کے تشکیل کردہ فرضی دوستوں میں سے ایک روحانی پیشوا ’سکائی مین‘ کہلاتا تھا اور کیکی نے یہ نام استعمال کر کے پولی چوہدری کو اس بات پر قائل کر لیا کہ عائشہ میں ’گندا خون‘ ہے اور یہ کہ اس میں سے ’بد روحوں‘ کو نکالنا پڑے گا۔

پوسٹ مورٹم رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ عائشہ کی ہلاکت سر پر چوٹ یا چوٹیں لگنے سے ہوئی۔

عائشہ کے جسم پر کئی اور اقسام کے زخم بھی پائے گئے جن میں اس کی ماں کے دانتوں سے کاٹنے کے نشانات شامل ہیں۔

اسی بارے میں