ڈوبنے کے 70 سال بعد بحری جہاز کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ Paul Allen
Image caption مساشی ایک ’دیوہیکل جنگی جہاز‘ تھا جس میں ’18 انچ کی زبردست توپیں‘ نصب تھیں

امریکی ارب پتی پال ایلن نے دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے جاپان کے جنگی بحری جہاز مساشی کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ یہ بحری جہاز 70 سال پہلے امریکی فوج کا نشانہ بننے کے بعد ڈوب گیا تھا۔

پال ایلن کا کہنا ہے کہ ان کی دریافت ان کے ذاتی سرچ ٹیم نے کی ہے۔

یہ بحری جہاز فلپائن کے قریب بحیرہ سیبویان میں سطح سمندرسے ایک کلومیٹر (3,280 فٹ) نیچے زمین پر موجود تھا۔

مساشی اور اس کا جڑواں جہاز یاماٹو کا شمار سب سے بڑے جنگی بحری جہازوں میں ہوتا تھا۔

امریکی جنگی جہازوں نے ان بحری جہازوں کو 24 اکتوبر 1944 کو خلیجِ لیٹ کی لڑائی میں غرق کیا تھا۔ اس لڑائی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم میں سب سے بڑی بحری لڑائی تھی جس میں امریکی اور آسٹریلوی فوجوں نے جاپانیوں کو شکست دی تھی۔

پال ایلن نے اس دریافت کا اعلان اپنے ٹوئٹر کے صفحے پر کیا، جس میں زیرآب بحری جہاز کی تصویریں بھی دکھائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ US NAVY
Image caption جاپانی بحری جہاز مساشی کو امریکی جنگی جہازوں نے 24 اکتوبر 1944 کو خلیجِ لیٹ کی لڑائی میں غرق کیا تھا

انھوں نے اس کی تلاش کا آغاز آٹھ سال پہلے کیا تھا اور انھوں نے سی این بی سی سے اس مہم کے سرانجام دینے کی وجہ بیان کرتے کہا کہ ’کیونکہ میں لڑکپن سے ہی دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کا دلدادہ ہوں۔‘

پال ایلن کی ٹیم کی جانب سے سمندری تہہ کا جامع سروے کرنے کے بعد فلپائن کے بحرالجزائر کے درمیان زیر آب کام کرنے والی خودکار مشین کے ذریعے مساشی تک پہنچا گیا۔

امریکی نیوی کی ویب سائٹ کے مطابق مساشی ایک ’دیوہیکل جنگی جہاز‘ تھا جس میں ’18 انچ کی زبردست توپیں‘ نصب تھیں۔

امریکی نیوی کے مطابق اس کے جڑواں جہاز یاماٹو کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور آخرِ کار ایک سال بعد امریکی جنگی جہازوں نے اوکی ناوا کی لڑائی کے دوران اسے بھی غرق کر دیا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے ڈیٹا بیس کی ویب سائٹ کے مطابق اپنے آخری دنوں میں جب امریکی ہوائی جہازوں نے اسے مسلسل نشانہ بنایا تو مساشی نے اپنا دفاع اپنے بڑے طیارہ شکن ہتھیاروں سے سمندر میں گولے داغنے سے کیا ’تاکہ اس کے نتیجے میں اٹھنے والے گرم پانی کی لہریں بنا کر امریکی تارپیڈو بمبوں کو نشانہ بنایا جاسکے‘۔

پائلٹ جیک لوٹن اس بارے میں یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ان پر بھاگنا ایسے ہی تھا جیسے کسی پہاڑ پر بھاگنا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Paul G Allen
Image caption مساشی اور اس کے جڑواں بحری جہاز یاماٹو کا شمار اُس دور میں دنیا کے سب سے بڑے جنگی بحری جہازوں میں ہوتا تھا

ویب سائٹ کے مطابق ’بغیرمناسب ہوائی امداد، خواہ مساشی کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ تھی، وہ ہوائی جہازوں کے مسلسل حملوں کے سامنے بے بس تھی۔‘

سہہ پہر کے وقت آخری حملہ ختم ہونے کے بعد، ویسل کو 20 تارپیڈو میزائل اور 17 بموں سے نشانہ بنایا گیا۔ جس میں سے 18 اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا سکے۔

شام تک مساشی پانی میں الٹ کر ڈوب گئی۔ اس کا 1,000 افراد پر مشتمل عملہ ہلاک ہوگیا اور 18 امریکی جہاز تباہ ہوئے ۔

امریکی شہر سیاٹل میں پیدا ہونے والے 62 سالہ پال ایلن نے 1975 میں بل گیٹس کے ساتھ مائیکرو سافٹ کی بنیاد رکھی تھی، اور فوربس جریدے کے مطابق وہ دنیا کے 51ویں امیر ترین شخص ہیں۔

وہ اپنی ویب سائٹ پر خود کو ایک انسان دوست شخص، سرمایہ کار، کاروباری شخصیت، مصنف اور خلائی سرخیل کہتے ہیں۔

اسی بارے میں