انڈونیشیا نے قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہیروئین سمگل کرنے کے الزام میں چن اور سکوماران کو 2006 میں انڈونیشیا کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی جس پر عمل درآمد متوقع ہے

انڈونیشیا کی حکومت نے سزائے موت پانے والے دو آسٹریلوی شہریوں کی جان بچانے کے لیے آسٹریلیا کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارمانتھا ناصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت ایسا کوئی تبادلہ کیا جا سکے۔

آسٹریلوی حکومت نے منشیات کی سمگلنگ میں موت کی سزا کے منتظر اپنے شہریوں اینڈریو چن اور میئون سکوماران کو بچانے کے لیے یہ پیشکش کی تھی۔

ان دونوں افراد کو انڈونیشیا کے جزیرے نوساکیمبنگن پہنچایا جا چکا ہے جہاں جلد ہی ان دونوں کی سزا پر عمل درآمد کا امکان ہے۔

انھی قیدیوں کے معاملے پر آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے انڈونیشیا کے صدر جوکو وِدود سے ٹیلی فون پر دوبارہ رابطہ کیا تھا۔

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ نے جمعرات کو وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ قیدیوں کا تبادلہ ان ممکنہ طریقوں میں سے ایک ہے جن کے بدلے موت کی سزا پانے والے آسٹریلوی باشندوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلوی شہریوں کی موت کی سزا پر متوقع علمدرآمد کے خلاف آسٹریلیا میں مظاہرے

وزیرِ خارجہ جولی بشپ نے آسٹریلیا کی جانب سے یہ پیشکش اپنی انڈونیشن ہم منصب کو پہنچائی۔

وزیراعظم ٹوبی ایبٹ نے بتایا کہ انھوں نے انڈونیشیا کے صدر سے ایک اور رابطہ کیا انھیں انسانی ہمدردی کے لیے رضامند کرنے کی کوشش کی۔

.’میں نے درخواست کی ہے ، میں یہ یقین دہانی نہیں کرواسکتا کہ اس درخواست کو پورا کیا جائے گا لیکن میں نے بغیر کسی شکو شبہے کے ایک درخواست کی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ انڈونیشیا کی عزت اور اس سے دوستی کی قدر کرتے ہیں تاہم انپی اقدار اور شہریوں کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔

آسٹریلیا کے ان دو شہریوں چن اور سوکماران پر سن 2005 میں بالی سے آسٹریلیا میں ہیروئین سمگل کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نشہ آور ادویات کی سمگلنگ کے خلاف سخت ترین قوانین موجود ہیں اور یہاں موت کی سزا پر عملدرآمد کی چار سالہ پابندی کو 2013 میں ختم کر دیا گیا تھا۔

دونوں قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کے وقت کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم الجزیرا کے انڈونیشیا میں نامہ نگار نے ملک کے صدر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ رواں ہفتے انھیں سزا نہیں دی جائے گی۔

قانون کے مطابق حکام کو کسی بھی مجرم کو موت کی سزا دینے سے 72 گھنٹے قبل اس کا نوٹس جاری کرنا ہوتا ہے۔

آسٹریلیا میں ہیروئین کی سمگلنگ کی کوشش کرنے والے اس گروہ کو ’بالی نائن ‘ کا نام دیا گیا جس میں شامل ایک خاتون اور آٹھ مردوں کو اپریل 2005 میں بالی کے ہوائی اڈے کے ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔

اس گروپ کے قبضے سے آٹھ کلو سے زائد ہیروئین برآمد کی گئی۔ چن اور سوکرمان کو سزآیے موت جبکہ دیگر سات چیدیوں کو زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انڈونیشیا کے صدر ہیروئین کی سمگلنگ میں ملوث افراد کے ساتھ نرمی برتنے کو تیار نہیں

موت کے سزا پانے والے دونوں آسٹریلوی باشندے متعدد بار اپنی سزا کے حلاف اپیل کرچکے ہیں ان کا موقف ہے کہ وہ اب بدل چکے ہیں۔ چن جیل میں مذہبی بائبل پڑھاتے ہیں جبکہ سکومران ایک آرٹسٹ ہیں۔

اگر ان دونوں قیدیوں کی سزا پر عملدرآمد ہوجاتا ہے تو یہ صدر وِدودو کے دورِ اقتدار کے عرصے میں نشے کے کاروبار میں ملوث گروہ کو دی جانے والی دوسری سزا ہوگی۔

جنوری 2015 میں نشے کے کاروبار کے جرم میں چھ غیر ملکیوں کو سزائے موت دی گئی تھی جن کا تعلق نیدرلینڈ اور برازیل سے تھا اور دونوں ممالک نے اسے سفارتی تعلقات کے لیے منفی قرار دیا تھا۔

اس وقت انڈونیشیا میں ان دوقیدیوں کے علاوہ برازیل، گھانا، نائجیریا اور فرانس سے تعلق رکھنے والے ایسے قیدی بھی شامل ہیں جن کی سزائے موت پر عمل درآمد باقی ہے۔ انھیں قیدیوں میں فلپائین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بھی ہیں جنھوں نے موت کی سزا کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں