’میں چاہتی ہوں کہ عوام میری ای میل دیکھ سکیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس تنازع کے باعث ہیلری کلنٹن دبائو کا شکار بھی ہے کیونکہ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ 2016 کے انتخابات میں صدارتی امیدوار کے طور پرنامزدگی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں

امریکہ کی سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے ان کے ذاتی ای میل کے استعمال کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تنازع کے جواب میں حکام سے کہا ہے کہ ان کی ای میلز کو منظرعام پر لایا جائے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام دیا ہے ’میں چاہتی ہوں کہ عوام میری ای میل دیکھ سکیں۔‘

یہ بیان سنہ 2012 میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کمیٹی کی جانب سے ان کے ای میلز کے سمن جاری ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یعنی محکمۂ خارجہ ہیلری کلنٹن کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کے استعمال کو ممکنہ طور پر وفاقی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر معائنہ کر رہا ہے۔

اس تنازع کے باعث ہیلری کلنٹن دبائو کا شکار بھی ہے کیونکہ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جانب سے صدارتی امیدوار کے طور پرنامزدگی کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا ’میں سٹیٹ سے کہتی ہوں کہ وہ انھیں (ای میلز) کو جاری کر دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ان کا جلد از جلد جائزہ لیں گے۔‘

بدھ کو یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ ہیلری کلنٹن نیویارک میں اپنے گھر میں ذاتی انٹرنیٹ سرور کا استعمال کرتی رہی تھیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک ہیلری کلنٹن کے پاس سرکاری ای میل ایڈریس نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہیلری کلنٹن کا یہ بیان رپبلکن کی زیرصدارت کانکریسی کمیٹی کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے کہ ہیلری کلنٹن کی بن غازی حملے سے متعلقہ تمام ای میلز منظر عام پر لائی جائیں۔

امریکہ کے سرکاری واچ ڈاگ اور نیشنل آرکائیو اور ریکارڈ ایڈمنسٹریشن کے سابق اہلکاروں نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ہیلری کلنٹن کا اتنی بڑی تعداد میں ذاتی ای میل کا استعمال قانون کی ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔

اس حوالے سے ایک بڑا خدشہ یہ بھی ہے کہ ذاتی ای میل اکاؤنٹ پر ہیکرز کی جانب سے حملے کا شکار ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس معاملے کو خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ان رپورٹس نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ہیلری کلنٹن کے گھر میں نصب انٹرنیٹ سرور ایرک ہوٹہیم کے نام پر رجسٹر تھا۔

وفاقی قانون کے مطابق وفاقی اہلکاروں کی تمام خط و کتابت کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور ہیلری کلنٹن کی جانب سے اب تک ان کی ای میل کے 55000 صفحات کو قابلِ رسائی بنایا گیا ہے

منگل کو ہیلری کلنٹن کے ترجمان نک میرل نے ان کے ذاتی اکاؤنٹ کے استعمال کے حوالے سے بات کرنے سے گریز کیا تاہم انہوں نے اس کے استعمال کا دفاع ضرور کیا۔

ہیلری کلنٹن کا ٹویٹر کے ذریعے یہ بیان رپبلکن کی زیرصدارت کانگریس کمیٹی کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے کہ ہیلری کلنٹن کی بن غازی حملے سے متعلقہ تمام ای میلز منظر عام پر لائی جائیں۔ اس حملے میں امریکی سفارتکار کرسٹوفر سٹیونز ہلاک ہوئے تھے۔

بن غازی کمیٹی کے چیئرمین ٹرے گوڈی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’مجھے تمام دستاویز چاہییں، جلد یا بدیر۔‘

کمیٹی میں شامل ڈیموکریٹ اراکین نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہے کہ اس کے پیچھے رپبلکنز کے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔

ڈیموکریٹ رکن الیجاہ کمنز کا کہنا ہے کہ ’میں نے تاحال جو کچھ بھی دیکھا ہے اس سے مجھے یقین ہو رہا ہے کہ یہ ہیلری کلنٹن کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔‘

اسی بارے میں