جنوبی کوریا میں امریکی سفیر چاقو کے حملے میں زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مارک لپرٹ کو 2014 میں جنوبی کوریا میں امریکہ کا سفیر تعینات کیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا میں امریکہ کے سفیر مارک لپرٹ سیئول میں ایک حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک حملہ آور نے جمعرات کو 42 سالہ لپرٹ پر چاقو سے اس وقت حملہ کیا جب وہ ناشتے پر بلائے گئے ایک اجلاس میں شریک ہونے والے تھے۔

پولیس کے مطابق لپرٹ سیول کے مرکزی علاقے میں ایک لیکچر ہال میں داخل ہو رہے تھے کہ صبح سات بج کر 40 منٹ پر انھیں نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے میں ان کے چہرے اور بائیں ہاتھ پر زخم آئے اور واقعے کے بعد لی گئی تصاویر میں انھیں خون آلود حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اس واقعے کے فوری بعد انھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کی حالت تسلی بخش ہے۔

پولیس نے لپرٹ پر چاقو کے وار کرنے والے 55 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے لپرٹ پر چاقو کے وار کرنے والے 55 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے چاقو چلانے سے قبل شمالی اور جنوبی کوریا کے انضمام کے حق میں نعرے لگائے۔

حملہ آور جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف بھی نعرے لگاتا رہا۔

تاہم بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس واقعے میں شمالی کوریا ملوث ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے اس حملے کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اس پر تشدد واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘

امریکہ کے سابق نائب وزیرِ دفاع مارک لپرٹ کو 2014 میں جنوبی کوریا میں امریکہ کا سفیر تعینات کیا گیا تھا۔