’عراق میں نمرود کے آثارِ قدیمہ کی تباہی جنگی جرم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption نینوا میں واقع یہ کھنڈرات قدیم میسوپوٹیمیا کی آرمینیائی تہذیب کی اہم ترین باقیات میں سے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں آثارِ قدیمہ میں شمار ہونے والے تاریخی شہر نمرود کی تباہی کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔

نمرود کے کھنڈرات کا شمار عراق کے اہم ترین آثارِ قدیمہ میں ہوتا ہے۔

نمرود نامی شہر 13ویں صدی قبل مسیح میں موصل کے نزدیک دریائے دجلہ کے کنارے بسایا گیا تھا۔

عراقی آثارِ قدیمہ کے ماہر لامیہ الگیلانی کا کہنا ہے کہ ’وہ ہماری تاریخ مٹا رہے ہیں۔‘

یونیسکو کے سربراہ ایرینہ بوکوا نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ عراقی عوام کے خلاف ایک اور حملہ ہے۔ اس حملے نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ملک میں جاری ثقافتی صفائی سے کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔ منظم طریقے سے انسانی زندگیاں، اقلیتیں اور آثارِ قدیمہ کو تباہ کیا جا رہا ہے۔‘

’ثقافتی ورثے کو جان بوجھ کر پہنچایا گیا نقصان جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انسان کے ثقافتی ورثے کو پہنچایا جانے والا نقصان کی کوئی سیاسی یا مذہبی توجیہہ نہیں ہے۔‘

عراق کی وزارتِ سیاحت نے کہا ہے کہ شدت پسند اس سلسلے میں بلڈوزر اور دیگر بھاری مشینری استعمال کر رہے ہیں اور ان کھنڈرات کا نام و نشان مٹانے کے لیے کوشاں ہیں۔

عراقی صوبے نینوا میں واقع یہ کھنڈرات قدیم میسوپوٹیمیا کی آرامیئن یا عاشوری تہذیب کی اہم ترین باقیات میں سے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نمرود کے کھنڈرات کا شمار عراق کے اہم ترین آثارِ قدیمہ میں ہوتا ہے

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نمرود کی تباہی کی اطلاعات نے عالمی سطح پر آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے سلسلے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان آثار کی تباہی طالبان کے ہاتھوں سنہ 2001 میں افغان صوبے بامیان میں بدھا کے مجسموں کی تباہی جیسی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان آثار کی تباہی طالبان کے ہاتھوں سنہ 2001 میں افغان صوبے بامیان میں بدھا کے مجسموں کی تباہی جیسی ہے

دولتِ اسلامیہ نے کچھ عرصہ قبل موصل کے عجائب گھر میں موجود آثارِ قدیمہ خصوصاً انمول مجسموں کی تباہی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

اس ویڈیو میں سیاہ عبا پہنے ایک شخص کو دکھایا گیا جو مجسموں کو دھکیلتا ہے اور پھر بھاری ہتھوڑوں اور سوراخ کرنے والی مشینوں سے انھیں تباہ کرتا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی اس ویڈیو میں عراق میں آثارِ قدیمہ کے مقام بابِ نرغال پر بھی مجسموں کی تباہی دکھائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی ویڈیو میں ایک جنگجو مذہبی طور پر ان مجسموں کی تباہی کا جواز دینے کے لیے یہ وضاحت پیش کرتا ہے کہ سنگ تراشی کا یہ غلط تصور ہے۔

یاد رہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے جون 2014 میں عراق کے شہر موصل پر قبضہ کیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ اس وقت عراق میں موجود آثارقدیمہ کے 12 ہزار رجسٹرڈ مقامات میں سے 1800 کے قریب پر قابض ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں