بوکو حرام کا دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بوکوحرام نے گذشتہ سال دو سو سے زائد طالبات کو اغوا کر لیا تھا

افریقی ملک نائجیریا کے شدت پسند گروپ بوکوحرام نے اطلاعات کے مطابق عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

سنیچر کو ہینائیجیریا کے شمال مشرقی شہر مائدیگوری میں تین مختلف دھماکوں کے نتیجے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بوکو حرام کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

بوکوحرام اتنی طاقتور کیسے ہو گئی؟

بوکوحرام کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ کے اکاؤنٹ سے جاری کیے جانے والے ایک آڈیو پیغام میں یہ اعلان کیا گیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کے عزم پر مبنی اس پیغام کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

گذشتہ برس ایک ویڈیو پیغام میں ابوبکر شیکاؤ نے دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ’خلیفہ‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ انھوں نے القاعدہ کے ایمن الظواہری کی بھی تعریف کی تھی۔ تاہم شیکاؤ نے ان میں کسی تنظیم کے ساتھ وفاداری کا اعلان نہیں کیا تھا۔

اس سے پہلے پاکستان اور افغانستان میں چند شدت پسند رہنما دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ شمالی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط بڑھا چکی ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ سال بوکوحرام تنظیم پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

بوکوحرام اسلام کے ایسے سخت گیر نظریے کی پیروی کرتا ہے جو مسلمانوں کو کسی بھی قسم کی مغربی طرز کی سیاسی یا معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے۔ اس میں انتخابات میں حصہ لینا، ٹی شرٹیں پہنا یا سیکولر تعلیم حاصل کرنا بھی شامل ہیں۔

شدت پسند تنظیم بوکوحرام نے افریقہ کی سب سے وحشیانہ بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ اس نے نائجیریا کے بڑے حصوں پر تسلط قائم کر لیا ہے اور نائجیریا کی سالمیت کے لیے خطرہ بننے کے علاوہ پڑوسی ملک کیمرون کے ساتھ بھی سرحد پر نیا محاذ کھولا ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ نائجیریا کے شمال مغرب میں جاری شورش سے پیدا ہونے والے انسانی بحران سے تقریباً 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اس تنظیم کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تنہائی پسند، بے خوف اور پیچیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔

دوسری جانب ابوبکر البغدادی کی سربراہی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد فضائی کارروائیاں کر رہا ہے جبکہ عراق سکیورٹی فورسز نے اس کے خلاف کئی علاقوں میں زمینی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

مائدیگوری میں دھماکہ

سنیچر کو ہی نائیجیریا کے شمال مشرقی شہر مائدیگوری میں تین مختلف دھماکوں کے نتیجے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابقدو دھماکے ایک بازار میں ہوئے جبکہ ایک اور ایک مصروف بس کے اڈے پر ہوا۔

عینی شاہدین کہا کہنا ہے کہ دھماکوں میں خودکش بمبار ملوث تھے۔

مائیدیگوری شہر ایک زمانے میں بوکوحرام تنظیم کا مرکز رہ چکا ہے۔

اس شہر سے بوکو حرام کو سرکاری افواج نے گذشتہ سال باہر دھکیل دیا تھا جو قریبی شہر سمبیسا میں پسپا ہو کر سرگرم ہوئی جہاں سے انہوں نے شمال مشرقی قصبوں میں بڑے پیمانے پر حملے اور کارروائیاں کیں اور بڑے علاقوں پر قبضہ کیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں