برطانیہ: تنخواہ میں صنفی فرق ظاہر کرنا لازمی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption بدھ کو دارلامرا میں حکومت کی جانب سے چھوٹے کاروبار کے بل میں پیش کی گئی مجوزہ ترمیم پر بحث کی جائے گی

برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے قانون میں مجوزہ ترمیم کے تحت بڑے تجارتی اداروں کو مرد اور خواتین کارکنوں کی تنخواہ میں اوسط فرق ظاہر کرنا پڑے گا۔

ایسے ادارے جن کے ملازمین کی تعداد 250 سے ذیادہ ہے اگر وہ اس قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو ان کو 5ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں تقریباً ایک کروڑ افراد بڑے تجارتی اداروں کے لیے کام کرتے ہیں۔ موجودہ قوانین کے تحت اداروں کے لیے مرد اور خواتین کی تنخواہ میں اوسط فرق ظاہر کرنا لازمی نہیں ہے اور اب تک صرف 5 اداروں نے ایسا کیا ہے۔

لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے اپنی حلیف حکومتی جماعت کنزرویٹو پارٹی کی مخالفت کے باوجود اس پالیسی کے حق میں قانون میں تبدیلی کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائی ہے۔

مساوات کی وزیر جو سوِنسن جن کا تعلق لبرل ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت اچھی خبر ہے کہ حکومت میں ان کی پارٹی کے موقف کی فتح ہوئی ہے۔‘

سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ مرد اور خواتین کی تنخواہوں میں فرق تارخ کی کم ترین سطح پر ہے اور موجودہ قوانین کے تحت 275 سے ذیادہ اداروں جن کے کل ملازمین کی تعداد 25 لاکھ سے ذیادہ ہے نے صنفی تنخواہ کے فرق کو ختم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔

لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ اور نائب وزیر اعظم نِک کلیگ نے کہا ہے کہ ’ملازمت میں خواتین کو برابر حقوق حاصل نہیں ہیں اور اکیسویں صدی میں یہ براداشت نہیں کیا جاسکتا خواتین کو اب بھی اوسطاً مردوں سے کم تنخواہ دی جاتی ہے۔‘

بدھ کو دارلامرا میں حکومت کی جانب سے چھوٹے کاروبار کے بل میں پیش کی گئی مجوزہ ترمیم پر بحث کی جائے گی۔

امید کے جارہی ہے کہ ایک سال میں نئے قانون کا نفاذ ہو جائے گا۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی نے بھی قانون میں تبدیلی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں