سوات کی تبسم کے لیے ’جرات‘ کا عالمی ایوارڈ

Image caption تبسم عدنان نے خواتین کے حقوق کے لیے ’خویندو جرگے‘ کی بنیاد رکھی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تبسم عدنان امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سال 2015 کا ’انٹرنیشنل ویمن آف کرِج ایوارڈ‘ حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔

یہ ایوارڈ مختلف شعبوں میں جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کو سال 2007 سے دیا جا رہا ہے جسے ’ انٹرنیشنل ویمن آف کرِج ایوارڈ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس سال یہ ایوارڈ جن دس خواتین کو دیا گیا ہے ان میں پاکستان سمیت بنگلہ دیش، جاپان، وسطی افریقن ریپبلک، گنی، شام، افغانستان، بولیویا، برما اور کوسوو سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں۔

تبسم عدنان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے ہے جو چند سال قبل پاکستان کی شدت پسند تنظیم کالعدم تحریک طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا۔

تبسم خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کی شادی کم عمری میں کر دی گئی تھی جب وہ فقط 13 برس کی تھیں۔ لیکن 20 سال شوہر کی جانب سے ذہنی اور جسمانی تشدد برداشت کرنے کی بعد انھوں نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کی وجہ سے انھیں اپنے بچوں اور گھر کو کھو دیا۔

بغیر سرمائے اور کسی کی مدد کے تبسم عدنان نے’ خویندو جرگہ‘ یعنی بہنوں کی کونسل کے نام سے اپنی ایک این جی او بنائی۔

Image caption تبسم عدنان بشتون تاریخ کی وہ پہلی خاتون ہیں جنھیں مردوں کے جرگے کی جانب سے اس وقت پہلی بار دعوت دی گئی جب انھوں نے ایک بچے کو جنسی کا نشانہ بنانے کے عمل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔گرینڈ جرگہ اس کیس کی سماعت کر رہا تھا

یہ وادیِ سوات میں وہ پہلا خواتین کا جرگہ تھا جو ہفتہ وار بنیادوں پر خواتین کے مسائل کو دیکھتا ہے۔ ان مسائل میں غیرت کے نام پر قتل، تیزاب کے ذریعے خواتین پر کیے جانے والے حملے اور ’سوارا‘ یعنی کسی جرم یا کسی معاہدے کے بدلے میں خواتین کو دیے جانے کی رسم وغیرہ شامل ہیں۔

خویندو جرگہ مقامی خواتین میں آگاہی پیدا کرنے کی مہم بھی چلاتا ہے۔ اس میں خواتین کے تحفظ، ووٹ دینے کے لیے انھیں متحرک کرنا، تشدد سے متاثرہ عورتوں کو مفت قانونی مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

تبسم عدنان کی سربراہی میں قائم خویندو جرگے کی انتظامیہ ضلع سوات کی منتخب نمائندوں سے بھی ملاقات کرتا ہے تاکہ عورتوں کے مفادات کی ضلع میں ترویج کی جا سکے۔

تبسم عدنان بشتون تاریخ کی وہ پہلی خاتون ہیں جنھیں مردوں کے جرگے کی جانب سے اس وقت پہلی بار دعوت دی گئی جب انھوں نے ایک بچے کو جنسی کا نشانہ بنانے کے عمل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔گرینڈ جرگہ اس کیس کی سماعت کر رہا تھا۔

بہت سی دھمکیوں اور اپنے ساتھیوں اور دوستوں کی جانب سے خود کو ذرا پیچھے رکھنے کے مشورے کے باوجود وہ اپنا کام اور وکالت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں