بلاگر کی سزا: ’دنیا ہمارے معاملے میں دخل نہ دے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رائف بداوی کو دی جانے والی سزا پر دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا

سعودی عرب نے اس بات پر ’حیرت اور افسوس‘ کا اظہار کیا ہے کہ عالمی میڈیا ’اسلام کی توہین‘ کرنے پر سعودی بلاگر کو ملنے والی سزا پر نکتہ چینی کر رہا ہے۔

اس معاملے پر اپنے پہلے سرکاری بیان میں سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سلطنت اپنےاندرونی معاملات میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔

سعودی بلاگر رائف بداوی کو گزشتہ برس ایک ہزار کوڑوں اور دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس سال جنوری میں بداوی کو سزا میں ملنے والے ہزار میں سے پہلے پچاس کوڑے لگائے گئے تھے۔ تاہم اس سزا کے نتیجے میں دنیا بھر میں سعودی عرب کے انسانی حقوقِ کے ریکارڈ پر شدید نکتہ چینی شروع ہو گئی تھی۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب اپنی خود مختاری اور اپنے عدالتی نظام کی آزادی اور غیر جانبداری پر کسی طرح کی کوئی قدغن قبول نہیں کر سکتا۔

بیان میں سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب حقوقِ انسانی کے بہانے ہر طرح کی خارجی جارحیت کو مسترد کرتا ہے۔‘

یہ بیان بداوی کی سزا کے نتیجے میں عالمی احتجاج کے بعد دیا گیا ہے۔ کئی بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں نے بداوی کو سنائی گئی سزا پر شدید تنقید کی ہے اور اس مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔

حقوقِ انسانی کے اداروں اور جرمنی کے کئی اراکینِ پارلیمان نے ملک کے وزیرِ معاشیات اور نائب چانسلر سگمر گیبریئل پر ریاض کے سرکاری دورے پر جانے سے قبل زور دیا کہ وہ سعودی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران بداوی کے معاملے کو اٹھائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FAMILY HANDOUT
Image caption بداوی کو ایک ہزار کوڑے بیس ہفتوں کے دوران لگائے جانے تھے مگر پہلے پچاس کوڑے لگائے جانے کے بعد اُن کی طبیعت خراب ہو گئی جس کے بعد مزید سزا پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا

بداوی کو ایک ہزار کوڑے بیس ہفتوں کے دوران لگائے جانے تھے۔ جنوری میں جدہ کی ایک مسجد کے باہر انھیں پہلے پچاس کوڑے لگائے گئے لیکن ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ تب سے کوڑوں کی سزا پر مزید عمل درآمد نہیں ہوا۔

رائف بداوی نے سنہ دو ہزار آٹھ میں لبرل سعودی نیٹ ورک نامی ایک آن لائن فورم قائم کیا تھا تاکہ مذہبی اور سیاسی معاملات پر بحث کی حوصلہ افزائی ہو۔ یہ آن لائن فورم اب بند ہے۔

سنہ دو ہزار بارہ میں بداوی کو گرفتار کیا گیا اور ان پر الیکٹرونک چینلز کے ذریعے ’اسلام کی توہین‘ اور ’تابع فرمانی کی حدود سے تجاوز‘ کے الزامات عائد کیے گئے۔

ان پر ارتداد کا الزام بھی لگایا گیا لیکن سنہ 2013 میں انھیں اس الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔ اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا تو مسٹر بداوی کو موت کی سزا دے دی جاتی۔

سعودی عرب میں اسلامی قوانین اپنی درشت ترین شکل میں نافذ ہیں، جہاں سیاسی اختلافِ رائے کی بھی اجازت نہیں۔ خطے میں سعودی عرب سے سوشل میڈیا پر آنے والے صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہاں اندرونی طور پر آن لائن کے ذریعے ہونے والی تنقید کے ساتھ سختی سے نمٹا جاتا ہے۔

اسی بارے میں