برطانیہ میں شرعی عدالتیں اور کونسلز باعثِ تشویش ہیں: رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹ کے مطابق جن علاقوں میں شرعی عدالتیں کام کر رہی ہیں وہاں پر خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے

برطانوی اخبار دا سنڈے ٹیلی گراف کے مطابق بچوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے بچانے کے لیے حکومت کی حکمتِ عملی میں یہ بھی شامل ہوسکتا ہے کہ بنیاد پسند مسلمانوں پر ایسے شعبوں میں کام کرنے کی پابندی لگا دی جائے جہاں ان کے ماتحتوں میں بچے شامل ہیں۔

اخبار نے وزارتِ داخلہ کی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں شرعی عدالتوں اور کونسلوں کو بھی باعث تشویش کہا گیا ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے وزارتِ داخلہ کے اس مراسلے پر ابھی اتحادیوں کے دستخط ہونا باقی ہیں۔

تاہم دوسری جانب وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت اس رپورٹ پر کوئئ تبصرہ نہیں کرے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شہریت کے اصولوں کو مزید سخت کیا جائے تاکہ شہریت حاصل کرنے والے افراد برطانوی اقدار کو اپنائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تین برطانوی طالبات کے بارے میں خدشہ ہے کہ انھوں نے شام جا کر دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ’ماضی میں حکومت مبہم اور خطرناک پیغام دیتی رہی ہے کہ اگر کوئی جمہوریت میں یقین رکھتا تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

نئی حکمت عملی کے تحت شرعی عدالتوں کا آزادانہ ریویو کرایا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق جن علاقوں میں شرعی عدالتیں کام کر رہی ہیں وہاں پر خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار بن رائٹ کا کہنا ہے کہ ابھی اس دستاویز پر حکومت کی اتحادی جماعتوں کے دستخط ہونا باقی ہیں اگرچہ انتخابات سے قبل حکومت کے پاس قلیل وقت رہ گیا ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی حکومت کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ممکنہ اقدامات کی یہ دستاویز برطانیہ سے تین طالبات کی مبینہ طور پر شام کی شدت پسند تنظئمدولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے بعد سامنے آئی ہے۔

اس کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کے ’جان جہادی‘ کے نام سے معروف جنگجو کی شناخت بھی حال ہی میں ہوئی جنھوں نے مغربی لندن سے تعلیم حاصل کی۔

ادھر برطانوی پولیس کی ایسوسی ایشن اے سی پی او کے صدر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر دیے گئے بیان میں خبردار کیا ہے کہ برطانوی پولیس کی تعداد میں مزید کمی دہشت گردی سمیت دیگر خطرات سے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پولیس کو دیے جانے والے وسائل میں کمی کا باعث بنےگی۔

سر ہوگ اوڈے نے آبزرور اخبار کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ اگر مقامی پولیس کے نوجوان کسی آبادی میں موجود نہیں ہوں گے اور ان کا وہاں کے لوگوں کے ساتھ رابطہ نہیں ہوگا تو پولیس انٹیلیجنس معلومات بھی حاصل نہیں کر سکے گی۔

اسی بارے میں