شام: تیل کے کارخانے پر فضائی حملے میں 14 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ سال دولتِ اسلامیہ نے مقامی سمگلروں کو تیل اور تیل سے بنی اشیا فروخت کر کے ایک اندازے کے مطابق دس کروڑ ڈالر کمائے

شام کے شمال میں دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ تیل صاف کرنے کے ایک کارخانے پر اتحادی افواج کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ فضائی حملہ تل ابیض کے باہر واقع ریفائنری پر کیا گیا جس میں یہاں کام کرنے والے اور دولتِ اسلامیہ کے جہادی ہلاک ہوئے۔

ایک سرگرم تنظیم نے ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رات کی تاریکی میں حملے کے بعد آگ کا ایک گولا آسمان کی جانب اٹھ رہا ہے۔

تیل کے کنوؤں اور کارخانوں پر قبضے نے دولتِ اسلامیہ کی شام اور عراق میں پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

گذشتہ سال دولتِ اسلامیہ نے مقامی سمگلروں کو تیل اور تیل سے بنی اشیا فروخت کر کے ایک اندازے کے مطابق دس کروڑ ڈالر کمائے تھے۔ مقامی سمگلر تیل اور تیل سے بنی چیزوں کو شام کی حکومت اور ہمسایہ مملک کے بیوپاریوں کو بیچ دیتے ہیں۔

تاہم امریکی اہلکاروں کا خیال ہے کہ دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملوں نے اس کی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بہت حد تک کم کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اتوار کی رات رقہ کے صوبے میں ہونے والے اتحادی فوج کے فضائی حملے میں دولتِ اسلامیہ کے 14 شدت پسند ہلاک ہوئے

اتوار کی رات رقہ کے صوبے میں ہونے والے اتحادی فوج کے فضائی حملے میں دولتِ اسلامیہ کے 14 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ رقہ کی ایک سرگرم تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکی جنگجو بھی شامل تھے۔

اس حملے میں نو شدت پسند شدید زخمی ہوئے جنھیں قریبی ہسپتال پہنچایا گیا۔ دولتِ اسلامیہ نے رقہ کو گذشتہ جون سے اپنا دارالخلافہ قرار دے رکھا ہے۔

برطانیہ میں کام کرنے والے شام کے حقوقِ انسانی کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات کے فضائی حملوں میں 30 کے قریب افراد مارے گئے جن میں عام شہری بھی شامل تھے۔

امریکہ کی مشترکہ ٹاسک فورس جو دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اس کے ایک ترجمان نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ کارروائیوں کے دوران دشمن کو نشانہ بنانے کے عمل میں عام شہریوں کو بچانے کے لیے اہم اقدامات کیے جاتے ہیں۔

’جب امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگتا ہے اور اس میں تھوڑی بہت صداقت نظر آتی ہے تو دعوے کی درستی اور جن حالات میں واقعہ پیش آیا ان کے تعین کے لیے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔‘

دریں اثنا اطلاعات کے مطابق اتوار کی دوپہر اتحادی افواج نے شمال مغربی صوبے اِدلِب میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے النصرہ فرنٹ کے خلاف بھی فضائی کارروائی کی۔

اس حملے میں ترکی کی سرحد کے قریب النصرہ فرنٹ کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جس میں جہادی گروپ کے نو ارکان مارے گئے جن میں چار غیر ملکی جنگجو تھے۔ اس حملے میں اے ایف پی کے مطابق تین عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

اسی بارے میں