یورپی کمیشن کے صدر کی یورپی فوج بنانے کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جون کلاڈ جنکراس سے پہلے بھی یورپی فوج بنانے کا تجویز پیش کر چکے ہیں

یورپی کمیشن کے صدر جون کلاڈ جنکر نے روس اور دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے یورپی فوج بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی فوج یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کو طاقت فراہم کرے گی اور ظاہر کرے گی کہ ہم اپنی اقدار کا دفاع کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نیٹو کے مدِمقابل نہیں ہو گی۔

دوسری جانب برطانوی حکومت کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دفاع ایک قومی ذمہ داری ہے اور یورپی فوج بنائے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

خیال رہے کہ جون کلاڈ جنکر اس سے پہلے بھی یورپی فوج بنانے کا تجویز پیش کر چکے ہیں لیکن اس بار ان کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی کی فوجی مداخلت نے ثابت کر دیا ہے کہ اس طرح کی فوج کی اشد ضرورت ہے۔

جرمنی کے ایک اخبار ڈی ویلٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی فوج سے یورپ اپنے ممبر ممالک یا ہماری کسی ہمسایہ ریاست میں امن کو لاحق خطرات سے مناسب طریقے سے نمٹ سکے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس طرح کی فوج تعیناتی کے لیے فوراً تو دستیاب نہیں ہو گی لیکن ہماری ایک مشترکہ فوج روس کو یہ واضح پیغام دے گی کہ ہم یورپی اقتدار کی حفاظت کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔‘

حال ہی میں روس کی جانب سے یوکرین میں مداخلت اور وہاں باغیوں کی حمایت کے جواب میں یورپی یونین نے جو کردار ادا کیا ہے اس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

یورپی کمیشن کے صدر کا کہنا ہے کہ نیٹو کی افواج ناکافی ہیں کیونکہ نیٹو میں شامل کچھ ممالک یورپی یونین کا حصہ نہیں ہیں: ’ایک مشترکہ فوج دنیا بھر میں ایک اہم اشارہ بھیجے گی اور اسلحے کی مشترکہ خریداری میں بچت بھی ہو گی۔‘

خیال رہے کہ 28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے پاس پہلے سے ہنگامی بنیادوں پر تعینات کرنے کے ایک تیز رفتار فورس دستیاب ہے جس کے لیے تمام ممالک سے افرادی قوت لی جاتی ہے۔ لیکن اس کو کبھی بھی کسی بحران میں استعمال نہیں کیا گیا۔

یورپی رہنما مشترکہ سکیورٹی پالیسی کو مضبوط کرنے کے لیے اس سریع الحرکت فورس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں مگر برطانیہ اور فرانس جن کی خطے میں سب سے بڑی افواج ہیں وہ اس کے حق میں نہیں کیونکہ انھیں اندیشہ ہے کہ اس سے نیٹو کا فوجی اتحاد کمزور ہوسکتا ہے۔

برطانوی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے ہمارا موقف بالکل واضح ہے، دفاع یورپی نہیں قومی مسئلہ ہے، ہمارے موقف میں تبدیلی اور اس طرح کی فوج کے قیام کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘

لیکن جرمنی کی وزیرِدفاع ارسیلا وون ڈر لیین نے یورپی فوج کے خیال کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے مستقبل میں کسی موڑ پر یورپی فوج بن سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں