جرمن خاتون دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہوفمین گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران ہلاک ہونے والی تیسری غیر ملکی شخصیت ہیں

جرمنی کی 19 سالہ خاتون پہلی ایسی غیر ملکی خاتون جنگجو بن گئی ہیں جو کرد ملشیا گروپوں کے ہمراہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوئی ہیں۔

ایوانا ہوفمین جن کے والدین کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے سنیچر کو شام کے شمال مغربی علاقے تل تمر کے قریب ماری گئیں۔ وہ کردوں کے ساتھ مل کر لڑی رہی تھیں۔

ایوانا نے چھ ماہ قبل کرد جنگجوؤں کے ساتھ مل کر دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنا شروع کیا تھا۔ وہ ترکی کی مارکسسٹ، لیننسٹ کمیونسٹ پارٹی کی رکن تھیں۔ پارٹی نے ایک بیان میں انھیں ’لافانی‘ قرار دیا ہے۔

حقوقِ انسانی کے لیے ایک شامی تنظیم نے بتایا کہ تل تمر کے قریب لڑائی میں 40 کے قریب کُرد جنگجو اور دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند مارے گئے ہیں۔

ہوفمین گذشتہ 15 دنوں کے دوران ہلاک ہونے والی تیسری غیر ملکی شخصیت ہیں۔

برطانیہ کے کوسٹینڈینوس ایرک سکرفیلڈ جو سابق شاہی فوج کے میرین تھے، اس ماہ کی دو تاریخ کو شدت پسندوں کے خلاف لڑتے ہوئے تل قضیلہ کے قریب مارے گئے تھے۔

اس سے قبل آسٹریلیا کے ایشلے جونسٹن تل ہمیس کے قریب اس وقت مارے گئے تھے جب وہ کرد ساتھیوں کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے لیکن ان کی گاڑی خراب ہوگئی اور وہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے نرغے میں آگئے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شام کے شمالی حصوں اور ہمسایہ ملک عراق میں لگ بھگ ایک سو کے قریب مغربی رضاکار، کُرد فوجیوں کے ہمراہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

اسی بارے میں