کرائمیا کے روس سے الحاق کے خفیہ منصوبے کا انکشاف

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption یوکرین کے معزول صدر نے ملک سے فرار ہو کر روس میں پناہ لی تھی

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے یوکرین کے خود مختار خطے کرائمیا میں مسلح جنگ کے آغاز سے چار دن قبل کرائمیا کی علیحدگی کا منصوبہ بنایا تھا۔

بین الااقوامی مذمت کے باوجود گذشتہ سال 18 مارچ کو کرائمیا نے روس سے الحاق کا اعلان کیا تھا۔

روس نے یوکرین میں حکومت مخالف تحریک میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی تھی لیکن دستاویزی فلم میں صدر پوتن نے کہا ہے کہ انھوں نے فروری میں یہ احکامات دیے تھے کہ کرائمیا کی روس میں شمولیت کے حوالے سے کام کیا جائے۔ روس کے صدر نے ایک اجلاس میں یوکرین کے معزول صدر کو بچانے کے لیے بھی ہدایت دیں۔

اس دستاویزی فلم کی جھلکیاں روس کے سرکاری ٹی وی چینل پر اتوار کی رات دکھائی گئیں، تاہم فلم کی ریلیز کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

فلم میں مسٹر پوتن کو 22 اور 23 فروری کی درمیانی شب میں ہونے والے ایک اجلاس کی تفصیل بتاتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس اجلاس میں روس کے خفیہ اداروں کے سربراہ اور وزیر دفاع موجود تھے۔

صدر پوتن نے کہا کہ ’میں نے کریملن میں خفیہ اداروں کے سربراہان اور وزیر دفاع کو مدعو کیا اور انھیں یوکرین کے معزول صدر وکٹر یونوکوواچ کی زندگی بچانے کا ہدف دیا، جو ہماری مدد کے بغیر ختم ہو جاتی۔ ہماری میٹنگ صبج سات بجے ختم ہوئی۔ جاتے ہوئے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم کرائمیا کو واپس لینے کے لیے کام شروع کرنے کے پابند ہیں۔‘

چار دن بعد یعنی 27 فروری کو روس کا جھنڈا اُٹھائے مسلح افراد نے مقامی پارلیمان کی عمارت کا گھیراؤ کر دیا۔ یہ افراد روسی فوج سے مماثلت رکھتے تھے اور مسلح افراد کے پاس روسی فوج کا امیتازی نشان تو نہیں تھا اور اُن کی تعریف ’لیٹل گرین مین‘ یا ’چھوٹے سبز آدمیوں‘ کے طور پر کی گئی۔

کرائمیا کے مستقبل کے فیصلے کے لیے 16 مارچ کو ہونے والے عوامی ریفرینڈم پر بین الاقوامی برداری نے شدید تنقید کی اور دو دن کے بعد صدر پوتن نے کرائمیا کے روس سے الحاق کے قانون پر دستخط کیے۔

کرائمیا کے یوکرین سے علیحدگی کے اس آپریشن کو خفیہ رکھا گیا اور روس نے خود پر لگنے والے تمام الزامات کی تردید کی۔ تاہم صدر پوتن نے بعد میں فوجوں کی تعیناتی کو تسلیم کیا اور کہا کہ روسی افواج کرائمیا کی افواج کے پیچھے کھڑی تھیں۔

یوکرین کے معزول صدر کے ملک سے فرار ہونے کے بارے میں ابھی حقائق واضح نہیں ہیں، لیکن صدر پوتن نے اُنھیں دونیتسک سے نکالنے کے بارے میں بتایا ہے۔

یہ دستاویزی فلم روس کے سابق صحافی نے بنائی ہے جو سرکاری خبر رساں ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزی فلم جلد نشر کی جائے گی۔

اسی بارے میں