وسطی ایشیا میں طاقت میں رہنے کے پانچ سنہری اصول

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام کریموف اور سلطان نذربائیوف سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ازبکستان اور قزاقستان کے صدر چلے آ رہے ہیں

وسطی ایشیا کے دو اہم ممالک قزاقستان اور ازبکستان رواں برس کے موسم بہار میں اپنے صدور کا انتخاب کرنے والے ہیں۔ اگر قزاقستان کے سلطان نذربائیوف اور ازبکستان کے اسلام کریموف ایک بار پھر منتخب نہ ہوئے تو بہت سارے لوگوں کو حیرانی ہوگی۔

دونوں رہنما، سلطان نذربائیوف اور اسلام کریموف سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سےاقتدار میں ہیں اور ان کا شمار دنیا کےلمبے عرصے تک اقتدار میں رہنے والے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

وسطیٰ ایشیا کے ان رہنماؤں نے اقتدارمیں رہنے کے پانچ سنہری اصول اپنا رکھے ہیں جس کی بنیاد پر وہ ہر بار انتخاب یا ریفرنڈم میں ’کامیاب‘ رہتے ہیں۔

پہلا اصول: الیکشن سے پرہیز، ریفرنڈم کا انعقاد

وسطی ایشیا کے ان ممالک میں صدارتی معیاد کو بڑھانے کےلیے اکثر انتخابات کی بجائے ریفرنڈم کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ریفرنڈم کےذریعے اپنے اقتدار کو دوام دینے کا رواج نوے کی دہائی میں زیادہ مقبول تھا جب وسطی ایشیا میں روس سے علیحدگی کے بعد تبدیلی کے تکلیف دہ مرحلے سے گذر رہا تھا۔ ایسے وقت میں جب غربت بڑھ رہی تھی، روزگار کے مواقعے کم تھے اور معیشت کا برا حال تھا اپوزیشن جماعتوں لوگوں کی مشکلات سے فائدہ اٹھا سکتی تھی لہذا ریفرنڈم سب سے محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔

ازبکستان اور قزاقستان کے صدور نے 1995، 2000 میں ریفرنڈم کے ذریعے اپنے اقتدار کی معیاد میں اضافہ کیا۔ ازبکستان 2001 میں ایک اور ریفرنڈم کے ذریعے اسلام کریموف کو مزید پانچ برس یعنی 2007 تک اقتدار کی اجازت مل گئی۔

چونکہ ریفرنڈم کے ذریعے اقتدار کی مدت میں اضافے پر عالمی سطح پر تنقید کی جاتی ہے لہذا اب دونوں، اسلام کریموف اور سلطان نذربائیوف ریفرنڈم سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسرا اصول: انتخابات کی مقررہ تاریخ سے پرہیز

اگر وسطیٰ ایشیا میں انتخابات ہوں بھی تو ان کا مقررہ وقت پر ہونے لازم نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ازبکستان میں انتخابی عملہ بیلٹ باکس اٹھا کر گھر گھر جاتا ہے

یہ دوسری بار ہے کہ ازبکستان کے صدر انتخابات کا انعقاد مقررہ مدت گزرنے کے ایک لمبے عرصے بعد کروا رہے ہیں۔ اس بار صدراتی انتخاب کو روکنے کا جواز پارلیمانی انتخابات ہیں جن کا انعقاد دسمبر 2014 میں ہونا تھا۔ اب صدارتی انتخابات 29 مارچ کو ہونے ہیں۔

اسی طرح قزاقستان میں تین بار انتخابات کا انعقاد مقررہ مدت سے پہلے ہی کروا لیا گیا۔ وقت سے پہلے انتخابات اپوزیشن جماعتوں کو پریشان کر دیتی ہیں۔ قزاقستان میں 2011 میں اپوزیشن نے یہ کہہ کر انتخابات سے دستبرادی کا اعلان کر دیا تھا کہ ان کے پاس انتخابات کے لیے تیاری کا بہت کم وقت رہ گیا ہے۔

اگر مشکل حالات آنے والے ہوں تو انتخابات کے جلد انعقاد سے بھی ان رہنماؤں کو فائدہ مل جاتا ہے۔ قزاقستان کے صدر سلطان نذربائیوف نے گزشتہ ماہ وقت سے پہلے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا اور اس کا جواز معاشی بحران اور علاقے کے ممالک میں کشیدگی میں اضافے کو بتایا۔ ان کی مراد یوکرین میں بڑھتے ہوئی کشیدگی تھی۔

قزاقستان میں وقت سے پہلے انتخابات یا ریفرنڈم کے فیصلے کو عوامی مطالبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بظاہر 2015 میں انتخابات کو معینہ مدت سے پہلے کرانے کا فیصلہ قزاقستان پیپلز اسمبلی کی تجویز پر کیا جا رہا ہے۔ 2011 میں صدر نذر بائیوف کے دور اقتدار کو ریفرنڈم کے ذریعے 2020 تک بڑھانے کی تجویز کے لیے دسویں لاکھ لوگوں کے دستخط حاصل کیے گئے تھے۔

تیسرا اصول: حزب اختلاف کو پنپنے ہی نہ دیں

ازبکستان اور قزاقستان کے انتخابات کے بارے میں سب سے یہ بات کی جاتی ہے کہ حقیقی اپوزیشن کو انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا جاتا۔ انتخابات میں متعدد امیدواروں کی موجودگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ حقیقی امیدوار ہیں۔ ماضی میں کئی ’اپوزیشن‘ امیدوار تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ موجودہ صدر کے حامی ہیں اور انھوں نے اپنا ووٹ بھی صدر کو دیا ہے۔

ان ممالک میں اپوزیشن جماعتوں کو جس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان حالات میں ’اپوزیشن‘ امیدوار کی طرف سے موجودہ صدر کی حمایت سمجھ میں آتی ہے۔ ازبکستان میں ارک پارٹی کے سربراہ محمد صلوہی کو ملک سے بھاگنا پڑا تھا۔

قزاقستان میں نمایاں اپوزیشن رہنماؤں کو امیدوار بننے ہی نہیں دیا جاتا۔ حزب اختلاف کے ایک رہنما اکیزن کو ایک ’غیر قانونی جلوس‘ میں شرکت کی پاداش میں مجرم قرار دے گیا تھا۔ لہذا مجرم تو صدارتی امیدوار نہیں ہو سکتا۔

چوتھا اصول: آئینی تبدیلی

موسم بہار میں ازبکستان کے صدر اسلام کریموف چوتھی بار صدارتی انتخاب لڑ رہے ہیں اور قزاقستان کے صدر سلطان نذربائیوف پانچویں بار اسی عہدے کے لیے انتخابی میدان میں اتریں گے۔ اگر آئین کہتا بھی ہے کہ ایک شخص دو بار سے زیادہ صدراتی امیدوار نہیں رہ سکتا تو وسطیٰ ایشیا کے رہنماؤں کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہیں ہے۔ وسطی ایشیا کے رہنما اس شرط کو ختم کرنے کے لیے باآسانی آئین میں تبدیلی کر لیتے ہے یا آئین ہی نئے سرے سے جاری کر دیا جاتا ہے جس کے تحت پچھلی مدت کو بھلا کر صرف نئی مدت کی سامنے رکھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption البتہ ان رہنماؤں نے ان ملکوں کو قدرے استحکام مہیا کیا ہے

صدر نذربائیوف اور صدر کریموف نے تیسری بار ایسے ہی صدر بننے تھے۔ البتہ سلطان نذربائیوف نے اس آئینی جھنجٹ سے پیچھا چھڑا لیا ہے اور اب ان کے صدراتی امیدوار بننے پر کوئی قدغن نہیں۔

پانچواں اصول: انتخابی دھاندلی

وسطی ایشیا کے رہنماؤں کے انتخابات میں ہمیشہ ووٹروں کا ٹرن آؤٹ ہائی ہوتا ہے اور وہ نوے فیصد سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوتے ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ایسے اعداد و شمار صرف بدعنوانی کے ذریعے ہی حاصل کیے جاتے ہیں۔

صدر اسلام کریموف اور سلطان نذر بائیوف شاید انتخابی دھاندلی کا سہارا لیے بغیر ہی جیت جائیں گے کیونکہ انھوں میں ملک میں ایسا سیاسی ماحول پیدا کر رکھا جس میں کوئی دوسرا متبادل سامنے ہی نہیں آ سکتا۔

اسی بارے میں