تکریت کا وسیع علاقہ دولت اسلامیہ کے ہاتھ سے نکل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption تکریت سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عراقی فوج نے ایک ہفتہ قبل آپریشن شروع کیا تھا۔

عراقی فوج نے ملک کے شمال مشرقی شہر تکریت کے وسیع علاقے کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے قبضے سے چھڑانے کا دعویٰ کیا ہے۔

عراقی فوجیوں اور شیعہ ملیشیا کے اہلکاروں نے القادسيہ ضلع میں واقع ایک ہسپتال پر عراقی پرچم بلند کیا۔ اس ضلع کا دو تہائی حصہ اب عراقی فوجوں کے زیرِ قبضہ ہے۔

عراقی فوج شہر کے جنوب اور مغربی حصوں میں زیادہ پیش قدمی نہیں کر سکی ہے۔

سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی فوجی کارروائی عراقی حکومت کی طرف سے اب تک کی سب سے بڑی فوجی کارروائی ہے۔

ایران فوجی کارروائی میں شامل تیس ہزار فوجیوں اور ملیشیا اہلکاروں کے درمیان رابط کاری کا کام سرانجام دے رہا ہے۔ ان فوجیوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائیہ کی بھی کوئی مدد حاصل نہیں ہے۔

دولت اسلامیہ نے گزشتہ سال جون میں تکریت پر قبضہ کر لیا تھا جب ان کے جنگجوؤں نے بڑی تیزی سے ملک کے شمالی اور مغربی حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومتی افواج نے منگل کی صبح تکریت کے شمالی کونے پر واقع قصبے العالم پر قبضے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

قبل ازیں تکریت شہر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فوج نے دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے شہر بھر میں بارودی مواد بچھا دیا ہے۔

حکومتی افواج نے اس سے قبل منگل کی صبح تکریت کے شمالی کونے پر واقع قصبے العالم پر قبضے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند اس وقت عراق اور شام میں بڑے علاقے پر قابض ہیں جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

ایسی غیرمصدقہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ شدت پسندوں نے حکومتی افواج کی پیش قدمی روکنے کے لیے دریائے دجلہ پر واقع شہر کا واحد پل بھی تباہ کر دیا ہے۔

تکریت سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عراقی فوج نے ایک ہفتہ قبل آپریشن شروع کیا تھا۔

تاہم عراقی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ سڑک کنارے نصب بموں اور سنائپرز کے حملوں کی وجہ سے پیش قدمی کی رفتار سست رہی ہے۔

ادھر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے انٹرنیٹ پر ایک اور ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں ایک اسرائیلی عرب لڑکے کو جاسوسی کے الزام کے تحت ہلاکت کا منظر دکھایا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں ایک کم عمر لڑکے کو سید اسماعیل مسلّم نامی شخص کو گولی مارتے دکھایا گیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ 19 سالہ اسماعیل مسلّم نے شام میں تنظیم میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے خود کو ایک غیر ملکی جنگجو ظاہر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تنظیم کے مطابق بعدازاں انھوں نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے کام کرنے کا اعتراف کیا۔

اسماعیل کے اہلِ خانہ اور اسرائیلی حکام اس الزام کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اسماعیل سنہ 2014 میں سیاحت کے لیے ترکی گئے تھے اور وہیں لاپتہ ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں