وہ شخص جس نے خود کو ہی پارسل کروایا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آسٹریلیائی ایتھلیٹ کے پاس جہاز کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے نہیں تھے

سنہ 1960 کے نصف میں آسٹریلیائی ایتھلیٹ ریگ سپیئرس لندن میں پھنسے تھے، ان کے پاس جہاز کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے نہیں تھے اور وہ جلد سے جلد اپنی بیٹی کی سالگرہ کے لیے واپس گھر جانا چاہتے تھے تو انھوں نے خود کو ایک لکڑی کے باکس میں کارگو کے ذریعے آسٹریلیا بھجوا دیا۔

’میں سامان کے ساتھ چلا گیا۔ ڈرنے کی کیا بات تھی۔ میں اندھیرے سے بالکل نہیں ڈرتا تو بس میں باکس میں بیٹھا رہا۔‘

’وہ بالکل ایسے تھا جیسا کہ میں بیرون ملک جاتا تھا، ایک سیٹ ہوتی ہے، اس پر بیٹھیے اور چلے جائیے۔‘

نصف صدی سے زیادہ کے عرصے کے بعد ریگ سپئیرس اس واقعے کو ایک معمولی بات کی طرح بیان کرتے ہیں لیکن اس وقت اس واقعے کو میڈیا نے بہت اچھالا تھا۔

سپیئرس بتاتے ہیں ’مجھے ہی یہ خیال آیا تھا کہ اپنے آپ کو ایک باکس میں رکھ کر کارگو میں واپس آسٹریلیا چلا جاؤں۔ کون کہہ سکتا تھا کہ یہ خیال کامیاب نہیں ہوگا؟ میں نے سوچا کوشش کرکے دیکھتا ہوں۔‘

سپیئرس اپنی اس چوٹ کے علاج کے لیے لندن گئے تھے جس سے ان کا کرئیر رک گیا تھا۔ وہ ایک ’جیولن تھرور‘ تھے وہ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لینے جانے والے تھے۔ لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ وہ کھیلوں میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں تو انھوں نے سوچا کہ وہ واپس آسٹریلیا جانے کے پیسے جمع کریں گے اور اسی لیے انھوں نے لندن کے ایئرپورٹ پر ملازمت کرنی شروع کردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپیئرس کو یہ بھی معلوم تھا کہ کارگو لے جانے والا سب سے بڑا بکس کون سا ہوتا ہے

لیکن انھیں اپنے منصوبہ اس وقت تبدیل کرنا پڑا جب پیسوں سے بھرا ان کا بٹوا چوری ہوگیا۔ ان کی اہلیہ اور ان کی بیٹی آسٹریلیا میں تھی اور سپیئرس بھی جلد از جلد گھر واپس جانا چاہتے تھے لیکن ’ایک پریشانی تھی، میرے پاس پیسے نہیں تھے۔‘ چونکہ ان کی بیٹی کی جنم دن کی سالگرہ قریب تھی تو انھیں گھر جانے کی زیادہ جلدی تھی۔

’میں ایئرپورٹ کے کارگو سیکشن میں کام کرتا ہے تو مجھے سب معلوم تھا کہ سامان کیسے جاتا ہے اور لوگ ایئرپورٹ پر رقم ادا کرکے سامان لے لیتے ہیں۔ میں نے کئی بار جانوروں کو کارگو میں جاتے دیکھا تھا تو میں نے سوچا اگر یہ جاسکتے ہیں تو میں کیوں نہیں۔‘

سپیئرس کو یہ بھی معلوم تھا کہ کارگو لے جانے والا سب سے بڑا باکس کون سا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت لندن میں اپنے دوست جان میکسورلی کے ساتھ مقیم تھے اور انھوں نے ان سے کہا کہ وہ ایسا باکس بنائے جس میں وہ چلے جائیں۔

مسٹر میکسورلی نے بتایا ’میں ریگ کو اچھی طرح جانتا تھا، مجھے معلوم تھا کہ وہ جائے گا ضرور چاہے کچھ ہو، تو بہتر ہے میں ہی اس کے لیے باکس بنا دوں تاکہ یہ اپنے گھر تو چلا جائے۔‘

باکس سپیئرس کی مرضی کے مطابق بنا اور باکس ایسا تھا جس میں وہ بیٹھ سکتے تھے اور گھٹنے موڑ کر لیٹ سکتے تھے۔ باکس کے اندر ایک کنڈی لگی تھی جس کی مدد سے سپئیرس باکس کو کھول سکتے تھے۔

تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ باکس میں کوئی آدمی ہے باکس پر لکھا تھا کہ اس میں پینٹ ہے اور اس پر آسٹریلیا میں ایک جوتے کی کمپنی کا جھوٹا پتہ لکھ دیا گیا تھا۔

ویسے تو اتنے بڑے کارگو کو بھیجنے کی قیمت ایک ٹکٹ سے زیادہ تھی لیکن سپیئرس نے سوچا کہ وہ ' کیش آن ڈلیوری' یعنی پہنچنے پر پیسے ادا کروا دیں گے یا پہنچ کر فکر کریں گے کہ رقم کیسے ادا کی جائے۔

باکس میں کچھ پیکٹس کھانا، ایک ٹارچ، ایک کمبل اور تکیہ اور دو پلاسٹک کی بوتلیں- ایک پانی کےلیے اور ایک پیشاب کے لیے رکھ کر سپیئرس کو پرتھ جانے والے ائیر انڈیا کے جہاز کے ذریعے بھیج دیا گیا۔ ویسے تو سپیئرس چاہتے تھے کہ وہ سیدھے اپنے شہر ایڈلیڈ جائیں لیکن پرتھ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ وہاں کا ائیرپورٹ نسبتا چھوٹا ہے۔

سپئیرس بتاتے ہیں ’میں لندن اور پیرس کے درمیان باکس سے نکلا کیونکہ میں پیشاب کرنے کے لیے بے تاب تھا۔ میں نے ایک کین میں پیشاب کیا اور اسے باکس کے اوپر رکھ دیا۔ میں اپنے پیر پسار رہا تھا کہ اچانک جہاز نیچے اترنے لگا۔ میں تھوڑا گھبرا گیا اور واپس باکس میں چلا گیا لیکن پیشاب سے بھری کین باکس کے اوپر ہی رکھی رہی۔‘

اس کین کے بارے میں فرانسسی اہلکار کچھ باتیں کر رہے تھے اور انگریزوں کو برا بھلا کہ رہے تھے لیکن ان کا دھیان باکس پر نہیں گیا۔

جہاز کا اگلا سٹاپ ممبئی تھا جہاں کارگو کا دھیان رکھنے والوں نے سپئیرس کے باکس کو الٹا کرکے گھنٹوں دھوپ میں رکھ دیا۔

’ممبئی میں بے پناہ گرمی تھی۔ میں نے اپنے کپڑے اتار دیے تھے۔ مجھے بے حد پسینہ آ رہا تھا۔ لیکن آخر کار انھوں نے مجھے دوسرے جہاز میں رکھ دیا۔‘

جب میں پرتھ پہنچا تو وہاں کے اہلکار میرے باکس کے سائز کے بارے میں باتیں کررہے تھے۔ ان اہلکاروں کے لہجے سے سپئیرس کو احساس ہوگیا کہ وہ اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

سپئیرس تین دن تک اس باکس میں رہے لیکن پرتھ پہنچ کر ان کے سامنے یہ چیلنج تھا کہ وہ ائیرپورٹ سے باہر کیسے نکلیں۔ خوش قسمتی سے ان کا نصیب ان کے ساتھ تھا۔

’میرے پاس کچھ آلات تھے جن کی مدد سے میں نے دیوار میں ایک سوراخ بنایا اور میں باہر نکل گیا۔‘

’اس وقت کوئی سیکیورٹی تو تھی نہیں۔ میں نے اپنا سوٹ پہنا، کھڑکی سے کودا اور سڑک پر تھوڑی دیر چل کر شہر کے لیے بس میں چڑھ گیا۔‘

لیکن لندن میں ان کے دوست میکسورلی ان کے لیے بے حد پریشان تھے۔ سپئیرس کسی طرح اپنے گھر پہنچ گئے اور اپنے دوست کو اپنی خیریت کی اطلاع دینا بھول گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اپنے دوست کی خیریت جاننے کی فکر میں میکسورلی نے میڈیا کو اطلاع کر دی کہ سپئیرس ایک باکس میں پرتھ گئے ہیں او ر پھر کیا تھا یہ ایک سنسنی خیز خبر بن گئی

اپنے دوست کی خیریت جاننے کی فکر میں میکسورلی نے میڈیا کو اطلاع کر دی کہ سپئیرس ایک باکس میں پرتھ گئے ہیں او ر پھر کیا تھا یہ ایک سنسنی خیز خبر بن گئی۔

سپیئرس کے اس کارنامے پر ان کو ایک سیاست دان نے انعام سے نوازا۔ آخر میں ائیر لائن نے ان سے کارگو کی فیس تو نہیں لی لیکن وہ میڈیا کوریج کو دیکھ حیران ضرور ہوئے تھے۔

سپیئرس اپنی بیٹی کے جنم دن کے لیے وقت پر پہنچ پائے لیکن ان کی اہلیہ کو ان کے اس کارنامے پر یقین نہیں ہوا۔

’میری اہلیہ کو شروع میں یقین نہیں ہوا تھا لیکن پھر اس نے اس بارے میں بہت سوچا اور پھر یقین آیا۔‘

محکمہ شہری ہوا بازی کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں ایسا واقعہ ہونا ناممکن ہے۔ پہلے تو کارگو جہاں رکھا جاتا وہاں کی درجہ حرارت اور دوسری ائیرپورٹس پر سیکورٹی کا سخت نظام اس کی اجازت نہیں دے گا۔

اسی بارے میں