باغیوں نے محاذ سے بھاری ہتھیار ہٹائے ہیں: یوکرینی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ بندی ہے یا نہیں۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں: پیٹرو پوروشینکو

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے کہا ہے کہ روس نواز باغیوں نے ملک کے مشرقی علاقے میں محاذِ جنگ سے کافی بھاری ہتھیار ہٹا لیے ہیں۔

ملکی ٹی وی پر اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ملکی افواج بھی اپنے راکٹ لانچرز اور توپ خانے کا بڑا حصہ واپس لے آئی ہیں۔

فروری میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت فریقین نے مارچ کے آغاز تک بھاری ہتھیار محاذ سے ہٹانا تھے۔

جنگ بندی کا یہ معاہدہ فریقین کے مابین مسلسل جھڑپوں کے باوجود تاحال قائم ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

یوکرین کے مشرقی علاقوں لوہانسک اور دونیتسک میں گذشتہ برس اپریل سے لڑائی کے آغاز کے بعد جہاں چھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں وہیں دس لاکھ سے زیادہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

تین دن قبل ہی یوکرینی صدر پوروشینکو نے روس نواز باغیوں پر عالمی مبصرین کی نگرانی میں بھاری ہتھیار ہٹانے کے عمل میں ہچکچاہٹ برتنے کا الزام لگایا تھا۔

تاہم پیر کی شب انھوں نے کہا کہ ’یوکرین نے اپنے راکٹ اور توپ خانے کا بڑا حصہ ہٹا لیا ہے۔ روس نواز جنگجو نے بھی خاصی بڑی تعداد میں ہتھیار ہٹائے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہتھیاروں کی واپسی سے قبل یوکرینی حکومت اور باغیوں نے 191 قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا ہے۔

جنگ بندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی ہے یا نہیں۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ 15 فروری سے جنگ بندی کے باقاعدہ آغاز کے بعد سے 64 یوکرینی فوجی مارے جا چکے ہیں جبکہ بغاوت کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعدا 1549 ہے۔

مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کا معاہدہ 12 فروری کو بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں فرانس اور جرمنی کے تعاون سے طے پایا تھا۔

یوکرین کے مشرقی علاقوں دونیتسک اور لوہانسک میں حکومتی افواج اور روس نواز باغیوں کے مابین لڑائی گذشتہ برس اپریل میں روس کے کرائمیا کو اپنا حصہ بنانے کے ایک ماہ بعد شروع ہوئی تھی۔

یوکرین، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں بھاری ہتھیار اور فوجی فراہم کر کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔

غیر جانبدار ماہرین بھی اس بات کو دہراتے نظر آتے ہیں جبکہ ماسکو ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی روسی باغیوں کی مدد کر رہا ہے تو یہ اس کا رضا کارانہ فعل ہے۔

اسی بارے میں