’بچے کہاں ہو، میں نے تمہیں کھو دیا ہے‘

زیاؤ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زیاؤ کا بچہ آٹھ سال میں لاپتہ ہوا تھا اور اب تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے

چین میں بچوں کی غیر قانونی تجارت تیزی سے فروغ پا رہی ہے، جہاں ان بچوں کو کھلے عام آن لائن فروخت کیا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بہت سے متاثرین اغوا کیےگئے بچے ہوتے ہیں جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 20,000 سالانہ ہے۔

فروری 2007 میں چین کے نئے سال کے آغاز سے چند روز پہلے زیاؤ چاؤہوا چین کے صنعتی شہر ہوئیزو میں اپنی کپڑے کی چھوٹی سی دوکان پر کام کر رہے تھے۔ یہ شہر ہانگ کانگ سے زیادہ دور نہیں ہے۔

ان کا پانچ سال کا بچہ زیاؤسانگ کھیلنے کے موڈ میں تھا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد انھوں نے قریبی ساحلِ سمندر کا رخ کیا جہاں انھوں نے ریت سے قلعے بنائے اور ساحل کے ساتھ ساتھ ریت پر سیر کی۔ زیاؤ کا کہنا ہے کہ ’وہ اس دن بہت خوش تھا اور میں نے فون پر اس کی کئی تصاویر اتاریں۔‘

رات کے سات بجے کے قریب زیاؤسانگ نے اپنے باپ سے کہا اسے دوکان سے اپنا پسندیدہ میٹھا دودھ لینے کے لیے پیسے چاہییں۔ زیاؤ نے اسے پیسے دے کر دس سالہ بہن کے ساتھ دودھ لینے بھیج دیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ ان کی اپنے بچے سے آخری ملاقات ہو گی۔ اس کے بعد انھوں نے کبھی اپنے بچے کو نہیں دیکھا۔

جب انھوں نے اپنے بیٹی کو اکیلے آتے ہوئے دیکھا تو ان کا ماتھا ٹھنکا۔ انھوں نے فوراً بچے کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے انھوں نے وہ سٹور دیکھا جہاں بچہ گیا تھا اس کے بعد انٹرنیٹ کیفے لیکن ان کو کچھ پتہ نہیں چلا۔ انھوں نے فوراً پولیس کو بلایا۔

زیاؤ کہتے ہیں کہ پولیس نے کہا کہ بچے کو یہاں ڈھونڈنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کے بیٹے کو اغوا کرنے کے بعد اب تک تو کسی اور شہر منتقل کر دیا ہو گا۔ لیکن زیاؤ نے اپنے بچے کو ڈھونڈنے کا عزم کیا ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بچے کی دو تصویریں جو وہ اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں

بچے کے لاپتہ ہونے کے پہلے ہفتے بعد زیاؤ نے مقامی ٹی وی پر اپنے بچے کا اشتہار دیا۔ لیکن کچھ ردِ عمل نہیں آیا۔ انھوں نے اپنی تلاش جاری رکھی۔ دن ہفتوں میں تبدیل ہوئے اور ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں میں۔ ’میرے پاس کوئی پلان نہیں تھا۔ میں پاگل ہو گیا۔ جہاں میں لوگ دیکھتا، جہاں ہجوم دیکھتا وہیں چلا جاتا۔‘

پہلے سال انھوں نے اپنی موٹر سائیکل پر چین کے صنعتی صوبے گوانگڈونگ میں اپنے بچے کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ انھوں نے بس سٹیشنوں، ٹرین سٹیشنوں اور شاپنگ سینٹروں میں بچے کے متعلق اطلاع دینے والے کے لیے انعام کے پوسٹر آویزاں کیے۔

اس کے بعد انھوں نے اپنی دوکان بیچ دی اور ایک وین خرید لی۔ ان کی بیوی نے ایک جوتے کی فیکٹری میں نوکری کر لی اور اپنی بچی کو دادا دادی کے پاس اپنے آبائی گھر بھیج دیا۔

اس کے بعد انھوں نے پورے چین میں اپنے بچے کو ڈھونڈا لیکن اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔

زیاؤ کی طرح ہزاروں چینی ہر سال اسی تکلیف سے گزرتے ہیں۔ اگرچہ چینی حکومت نے اس بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے لیکن امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اندازے کے مطابق چین میں ہر سال تقریباً 20,000 بچے اغوا کیے جاتے ہیں جس کا مطلب ہے ہر ہفتے تقریباً 400 بچے۔

چینی ریاستی میڈیا کے مطابق یہ اعداد 200,000 سالانہ تک ہو سکتے ہیں لیکن پولیس اسے رد کرتی ہے۔

ایک چھوٹے لڑکے کو 16,000 ڈالر تک بیچا جا سکتا ہے جو کہ لڑکی کی قیمت سے تقریباً دوگنا ہے۔ چین میں روایتی طور پر لڑکوں کو پسند کیا جاتا ہے کیونکہ وہ بڑھاپے میں والدین کی خدمت کرتے ہیں اور خاندان کا نام بھی آگے چلاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آن لائن پر آج بھی بچے کھلے عام فروخت کیے جا رہے ہیں

اغوا کیے جانے کے بعد ان بچوں کو اکثر گود لینے والے افراد کے ہاتھوں بیچ دیا جاتا ہے لیکن کچھ کو جرائم پیشہ گروہ بھیک مانگنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہمیشہ کے لیے کہیں گم ہو جاتے ہیں۔

12 سال پہلے جب ایک بس کی ڈکی سے 28 بچے ملے تھے تو چائلڈ ٹریفکنگ پر بہت بات ہوئی تھی۔ گوانچی صوبے سے ملنے والے ان بچوں کو نشہ آور دوا پلائی گئی تھی تاکہ وہ چپ رہیں اور اس کے بعد ان کو نائلون کے لفافوں میں بند کیا گیا تھا جس میں ایک بچہ دم گھٹنے سے مر بھی گیا تھا۔ اغواکاروں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے سربراہ کو سزائے موت دی گئی۔

لیکن اب بچوں کو اغوا کرنے اور بیچنے کا کاروبار زیادہ پیچیدہ اور ہائی ٹیک بنا دیا گیا ہے۔ اس کی زیادہ تر سرگرمی آن لائن ہوتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال فروری میں چار گینگ پکڑے گئے جو ویب سائٹس اور آن لائن فورمز کے ذریعے بچوں کو غیر سرکاری طور پر ’گود دیتے‘ تھے جو دراصل چوری کیے گئے بچے بیچنے کا ہی ایک طریقہ تھا۔ اس آپریشن میں پولیس نے 1,094 افراد گرفتار کیے اور 382 بچے بازیاب کروائے۔

لیکن ابھی بھی یہ کاروبار ہو رہا ہے۔

ایک آن لائن پوسٹ میں ایک ’آٹھ ماہ کی بچی‘ کو 32,000 ڈالر کے عوض فروخت کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ’اگر آپ سنجیدہ نہیں ہیں تو تنگ نہ کریں۔‘

میں نے انسٹینٹ میسنجر کے ذریعے بیچنے والی سے بات کی۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک اکیلی ماں ہے جس کی تین بیٹیاں ہیں۔ جن میں سے دو جڑواں اور ایک تین سال کی بچی ہے۔ وہ تینوں کی پرورش نہیں کر سکتی اس لیے ایک جڑواں بچی بیچ رہی ہے۔

میں نے فوراً حکام کو مطلع کیا۔ لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کوئی ردِ عمل نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’یہ مشن مرتے دم تک چلتا رہے گا‘

یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ وہ عورت اپنے بچے بیچ رہی تھی کہ اغوا کیے گئے بچے۔

بی بی سی کی طرف سے خفیہ طور پر ایک ہسپتال میں بنائی جانے والی فلم میں ایک ڈاکٹر بتاتی ہیں کہ ہسپتال میں چھوڑے گئے بچے اکثر گود لینے والے والدین کو بیچ دیے جاتے ہیں۔

چین میں خاندانی منصوبہ بندی کے بہت سخت قوانین ہیں اور عام حالات میں ایک خاندان کو صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہے۔ اور اگر اس سے زیادہ ہو جائیں تو والدین کو بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے۔

چند ماہ پہلے، اپنے بچے کے اغوا کے تقریباً آٹھ سال بعد زیاؤ چینگڈے شہر پہنچے، جو کہ اپنے مندروں کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ یہ بیجنگ سے چار گھنٹے کی دوری پر ہے۔

زیاؤ نے اپنی گاڑی ایک مقامی سکول کے گراؤنڈ میں پارک کی۔ ان کی گاڑی پر بہت سے گمشدہ بچوں کی تصاویر تھیں جن میں ان کے اپنے بچے کی بھی تصویر شامل تھی۔

وہ چینگڈے میں بچوں کی سمگلنگ پر بچوں کو ایک لیکچر دینے کے لیے آئے تھے۔ انھوں نے بعد میں بچوں کو بتایا کہ انھوں نے ان بچوں میں اپنے بچے کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی تھی کہ کہیں وہ بھی ان میں موجود تو نہیں۔ اس کے بعد انھوں نے بچوں کو چائلڈ ٹریفکنگ کی ایک ویڈیو دکھائی اور ایک گانا بھی گایا۔ ’بچے کہاں ہو۔ میں نے تمہیں کھو دیا ہے۔۔۔ میں پوری زندگی تمہیں ڈھونڈنے میں صرف کر دوں گا۔‘ یہ سن کر حاظرین میں موجود ایک خاتون پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔

زیاؤ اب ایک غیر سرکاری تنظیم میں کام کرتے ہیں جو بچوں کی ٹریفکنگ کے خلاف مہم چلاتی ہے۔

وہ اب تک ہزاروں میل کا سفر کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا سفر یا تو ان کی موت پر ختم ہو گا یا اس وقت جب وہ اپنے بیٹے کو ڈھونڈ لیں گے۔

اسی بارے میں