طلاق کے برسوں بعد بھی ہرجانہ دینا پڑا

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈیل ونس کے اثاثوں کی مالیت 10 کڑوڑ پاونڈ سے ذیادہ ہے۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں بیس سال قبل طلاق لینے والی عورت کو اس کے سابقہ شوہر کی دولت میں حصہ دینے کے حق میں فیصلہ کیا ہے۔

55 سالہ کیتھلین وائٹ نے اپنے سابقہ شوہر اور ایک توانائی کمپنی کے بانی 53 سالہ ڈیل ونس کے خلاف عدالت میں دعویٰ کیا تھا۔

اس سے قبل ڈیل ونس نے اس بنیاد پر کہ ان کی طلاق کو کافی عرصہ ہو چکا ہے کیتھلین وائٹ کے دعوے کے خلاف اپیل کی تھی جو کامیاب رہی تھی۔

لیکن اس حالیہ فیصلے میں مقدمہ سننے والے سپریم کورٹ کے پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر کیتھلین وائٹ کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

فیصلہ سناتے ہوے لارڈ ولسن کا کہنا تھا کہ ’عدالت کو اس بات کا ہر حالت میں خیال رکھنا چاہیے کہ گھر اور خاندان کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود میں شوہر اور بیوی دونوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔‘

مقدمے کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ جوڑے کا ایک بیٹا بھی ہے اور طلاق سے قبل وہ مسافروں جیسی زندگی گزار رہے تھے۔

لارڈ ولسن کا مزید کہنا تھا کہ ’ کیتھلین وائٹ نے سولہ سالوں میں بہت مشکل سے اپنے بیٹے کی پرورش کی ہے اور ان کا دعویٰ قانونی طور پر درست ہے۔ اگرچہ انہوں نے جو 20 لاکھ پاؤنڈ کا دعویٰ کیا تھا اتنا تو ان کو نہیں مل سکتا اور شاید اتنا بڑا دعویٰ عدالت مسترد بھی کر دیتی لیکن ہماری نظر میں ان کو اتنا معاوضہ مل جائے گا جس سے وہ ایک گھر خرید کر آرام سے زندگی گزار سکیں۔‘

خیال رہے کہ کیتھلین اور ڈیل کی نوجوانی میں ملاقات ہوئی تھی اور دونوں نے 1981 میں شادی کی تھی۔

اس وقت دونوں میاں بیوی زیادہ خوشحال نہیں تھے اور ڈیل 1995 میں اپنا کاروبار شروع کرنے سے پہلے ایک پرانی ایمبولینس میں رہتے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت ان کے اثاثوں کی مالیت 10 کڑوڑ پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔

کیتھلین وائٹ نے پہلا دعویٰ سنہ2011 میں کیا تھا۔

اسی بارے میں