’خواتین بچہ پیدا کرنےکی مشینیں نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایمنیٹسی کا کہنا ہے کہ قوانین کی منظوری سے ایران خواتین کے حقوق کے لحاظ سے کئی دہائیوں پیچھے چلا جائے گا

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں شرحِ پیدائش میں اضافے کے لیے مجوزہ قانون سازی سے ’خواتین بچہ پیدا کرنے کی مشینیں‘ بن جائیں گی۔

ایران میں مجوزہ قوانین میں سے ایک قانون کے تحت خواتین رضاکارانہ طور پر بچہ پیدا نہ کرنے کا حق یا نس بندی سے محروم ہو جائیں گی جبکہ دوسرے قانون کے مطابق ایسی خواتین جن کے بچے نہیں ہیں اُن کے لیے ملازمت کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ ان دونوں قوانین کی منظوری سے ایران خواتین کے حقوق کے لحاظ سے کئی دہائیوں پیچھے چلا جائے گا۔

اب سے کچھ عرصہ قبل تک ایران کی حکومت آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی تھی اور شرح پیدائش کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے سہولیات بھی فراہم کی جاتی تھیں۔

ایمنیسٹی نے خبرادار کیا ہے کہ رضاکارانہ طور بچوں کی پیدائش بند کرنے پر پابندی اور اس سے متعلق معلومات تک رسائی روکنے سے ایسی خواتین کے حاملہ ہونے کی شرح میں اضافہ ہو گا جو بچہ پیدا کرنے کی خواہش نہیں رکھتیں۔ ایمنیٹسی کے مطابق اس اقدام سے خواتین میں غیر محفوظ طریقوں سے اسقاطِ حمل کی شرح بڑھے گی۔

ایک دوسرے قانون کے مطابق خواتین کے لیے طلاق لینے کا عمل بہت مشکل ہو جائے گا اور ملازمت دینے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شادی شدہ اور بال بچے دار خواتین کو ترجیح دیں۔

مشرقِ وسطیٰ اورشمالی افریقہ کے لیے ایمنیسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’حکام ملک میں خطرناک روایت کو فروغ دے رہے ہیں، خواتین بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور انھیں محض بچہ پیدا کرنے والی مشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حکام کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ خواتین بھی انسان ہیں جن کے بنیادی حقوق ہیں اور انھیں ایسے امتیازی قوانین کو رد کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں