دولتِ اسلامیہ نے ’اسرائیلی جاسوس‘ کے قتل کی ویڈیو نشر کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیلی شہر محمد سعید مسلم کے والدین

دولتِ اسلامیہ نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں ایک لڑکے کو ایک اسرائیلی عرب قیدی کو گولی مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس آدمی کی شناخت محمد سعید اسمٰعیل مسلم کے طور پر کی گئی ہے اور دولتِ اسلامیہ نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ جاسوس تھا۔

دولتِ اسلامیہ کا کہنا تھا کہ 19 سالہ مسلم بیرونی جنگجو کا روپ دھار کر شام آ کر دولتِ اسلامیہ میں شامل ہوئے تھے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بعد میں مسلم نے اعتراف کر لیا تھا کہ وہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے کام کرتے ہیں۔ تاہم اسرائیل میں مسلم کے خاندان نے اس کی تردید کی ہے۔

مسلم کے والد سعید مسلم نے کہا: ’دولتِ اسلامیہ ایک مقصد کے تحت یہ سب کچھ کر رہی ہے۔ وہ ساری دنیا کو ڈرانا چاہتی ہے۔‘

انھوں نے فروری میں ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’میرا بیٹا بےگناہ ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے اسے اس لیے موساد کا ایجنٹ قرار دیا ہے کہ اس نے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا 2014 میں سیر و سیاحت کے لیے ترکی گیا تھا، اور جب وہ رقہ میں تھا تو ان دونوں کی آپس میں بات ہوئی تھی۔ رقہ شمالی شام کا شہر ہے اور یہ دولتِ اسلامیہ کا گڑھ ہے۔

شام جانے کے چند ماہ بعد دولتِ اسلامیہ سے وابستہ ایک آن لائن میگزین نے ان کا انٹرویو چھاپا تھا جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ انھیں اسرائیل نے تنظیم کی مخبری کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

اسرائیل کی سکیورٹی سروس شین بیت نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مسلم اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئے تھے۔

اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی جس میں مسلم کا قتل دکھایا گیا ہے۔ اسرائیل اپنی پالیسی کے تحت ایسے واقعات پر تبصرہ نہیں کرتا۔

ویڈیو میں ایک 12 سالہ لڑکے کو ایک فرانسیسی بولنے والے شخص کے ہمراہ دکھایا گیا ہے جو یہودیوں کے خلاف بول رہا ہے۔ اس کے بعد لڑکا نارنجی لباس پہنے ہوئے ایک شخص کے سر پر گولی مارتا ہے۔

گذشتہ ماہ دولتِ اسلامیہ نے لیبیا میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں 21 قبطی عیسائیوں کے سر قلم ہوتے ہوئے دکھائے تھے۔

اسی بارے میں