نیمتسوو قتل کیس میں ملزم سے’زبردستی اعتراف جرم‘ کرایا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زاؤر دادیوو وزارتِ داخلہ کی ایک بٹالین میں چیچنیا میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

روس میں حقوق انسانی کی کونسل کے ایک رکن کے مطابق روسی حزبِ اختلاف کے رہنما بورس نیمتسوو کے قتل الزام میں گرفتار ایک ملزم سے تشدد کے ذریعے اعترافِ جرم کرایا گیا۔

گذشتہ اتوار کو ماسکو کی ایک عدالت نے بورس نیمتسوو کے قتل کے تعلق میں دو افراد پر فردِ جرم عائد کی تھی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک ملزم زاؤر دادیو نے اعتراف کیا ہے کہ وہ 27 فروری کو رات گئے کریملن کے قریب ایک پل پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں ملوث تھا۔

قومی انسانی کی کونسل کے رکن اینڈری بابوشکین نے ملزم زاؤر دادیو سے ملاقات کی ہے۔

بابوشکین کے مطابق زاؤر دادیو کے جسم پر کئی زخم تھے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان پر تشدد کیا گیا۔

اینڈری بابوشکین کے مطابق ان کے پاس اس بات پر یقین کرنے کے جواز ہیں کہ زاؤر دادیو سے تشدد کے ذریعے اعترافِ جرم کرایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ لوگ جو تحقیقات میں شامل نہیں ہیں وہ ان کے دعوے کی جانچ پڑتال کریں۔

تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جیل کے دورہ کرنے کا مقصد محض قید و بند کے حالات کا جائزہ لینا ہے۔

Image caption اس کیس میں دیگر تین افراد کو بھی عدالت نے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا

اس دورے کے دوران زاؤر دادایو نے ہتھکڑی اور ٹانگوں پر رسیوں کے نشانات دیکھائے۔

زاؤر دادایو کے مطابق اتوار کو عدالت میں پیشی کے دوران یہ بتانے کا ارادہ کیا تھا کہ انھوں نے اعتراف کیوں کیا لیکن انھیں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس کیس کے دوسرے ملزم اینزر گوباشیو کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔

اینزر گوباشیو کے مطابق جب انھیں معلوم ہوا کہ ان کے کزن دادایو ہسمایہ ریاست انگوشتیا سے پکڑے گئے ہیں تو وہ فوری طور پر وہاں پہنچے تو انھیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اگر جرم میں شامل ہوتے تو کیوں انگوشتیا جاتے۔اینزر گوباشیو کے مطابق ان پر تشدد کیا گیا اور ماسکو پہنچنے تک ان کے سر کو ایک کالے ماسک سے ڈھانپ کر رکھا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بورس نیمتسوو کو گذشتہ ماہ ماسکو میں کریملن کے قریب ہی ایک پل پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا

ان دونوں افراد جن پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے کے بارے میں بہت کم اطلاعات ہیں مگر اطلاعات ہیں کہ زاؤر دادیوو وزارتِ داخلہ کی ایک بٹالین میں چیچنیا میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کو بورس نیمتسوو کے قتل کیس کی سماعت کے موقعے پر تین دیگر مشتبہ افراد کو بھی عدالت نے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

بورس نیمتسوو کو گذشتہ ماہ ماسکو میں کریملن کے قریب ہی ایک پل پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رات کے وقت پیدل جا رہے تھے۔

اس قتل کے نتیجے میں روس بھر میں سنسی کی لہڑ دوڑ گئی تھی اور ہزاروں افراد نے ماسکو میں ایک تعزیتی جلوس میں شرکت کی تھی۔

صدر ولادیمیر پوتن نے اس قتل کی مذمت کی اور ان ’شرمناک‘ سیاسی قتل کی وارداتوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

تاہم حزبِ اختلاف کے اہم رہنما سلیکسی نیولنی نے کریملن پر الزام عائد کیا کہ اس نے اس قتل کے احکامات جاری کیے تاکہ حزبِ اختلاف کو روس کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کے حوالے سے آواز اٹھانے پر چُپ کروایا جا سکے۔

نیمستوو کو اُس وقت قتل کیا گیا جب وہ یوکرین میں جنگ کے خلاف ایک بڑے جلوس کا انعقاد کرنے والے تھے اس کے علاوہ وہ ایک رپوٹ بھی لکھ رہے تھے جس میں وہ اس تنازعے میں روس کے خفیہ طور پر ملوث ہونے کے حوالے سے معلومات افشا کرنے والے تھے۔

اسی بارے میں