’طلاق کا ہرجانہ یا پرانا لاٹری ٹکٹ کیش کروانا‘

Image caption کیتھلین اور ڈیل کی نوجوانی میں ملاقات ہوئی تھی اور دونوں نے 1981 میں شادی کی تھی

برطانیہ کی سپریم کورٹ کی جانب سے ایک خاتون کو سابق شوہر کی دولت میں حصہ دینے کے فیصلہ کو اُن کے سابق شوہر نے ’پرانا لاٹری ٹکٹ کیش کروانے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

برطانیہ کی سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں 20 سال قبل طلاق لینے والی عورت کیتھلین وائٹ کو اس کے سابق شوہر کی دولت میں حصہ دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

53 سالہ برطانوی ارب پتی شہری ڈیل ونس کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں تک طلاق کا مقدمہ لڑنے پر وہ پانچ لاکھ پاؤنڈ خرچ کر چکے ہیں۔ اُن کی 55 سالہ سابق اہلیہ کیتھلین وائٹ نے برطانیہ کی سپریم کورٹ میں شوہر کی دولت میں حصہ لینے سے متعلق مقدمہ دائر کیا تھا۔

برطانوی جوڑا 11سال تک رشتۂ ازدواج میں منسلک رہا اور سنہ 1992 میں اُن کی درمیان علیحدگی ہوئی تھی۔ ڈیل ونس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’20 سال قبل ہی ہمارے تعلقات طے پا گئے تھے لیکن میں یہ ثابت نہیں کر پایا کیونکہ یہ بہت پہلے ہوا تھا اور عدالت کے پاس بھی ریکارڈ نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت غلط ہے اور یہ بالکل ایسے ہی جیسے پرانی لاٹری ٹکٹ کو کیش کروا لیا جائے۔‘

کیتھلین وائٹ نے 19 لاکھ پاؤنڈ کی رقم حاصل کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کا آغاز سنہ 2011 میں کیا تھا۔ اُن کے سابق شوہر ڈیل ونس سے اُن کا ایک بیٹا بھی ہے۔

اس سے قبل ڈیل ونس نے اس بنیاد پر کہ ان کی طلاق کو کافی عرصہ ہو چکا ہے، کیتھلین وائٹ کے دعوے کے خلاف اپیل کی تھی جو کامیاب رہی تھی۔

لیکن اس حالیہ فیصلے میں مقدمہ سننے والے سپریم کورٹ کے پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر کیتھلین وائٹ کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

خیال رہے کہ کیتھلین اور ڈیل کی نوجوانی میں ملاقات ہوئی تھی اور دونوں نے 1981 میں شادی کی تھی۔

اس وقت دونوں میاں بیوی زیادہ خوشحال نہیں تھے اور ڈیل 1995 میں اپنا کاروبار شروع کرنے سے پہلے ایک پرانی ایمبولینس میں رہتے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت ان کے اثاثوں کی مالیت دس کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں