میٹرو کی نظر سے قاہرہ کو دیکھو

میٹرو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میٹرو میں عورتیں مصری سماج کو درپیش کئی مسائل پر بھی بات کرتی نظر آتی ہیں

قاہرہ کی میٹرو میں خواتین کے پاس یہ حق ہے کہ وہ چاہے تو مردوں کے ڈبے میں سفر کریں یا پھر خواتین کے لیے مخصوص ڈبوں میں۔

بی بی سی کی دینا دمرداش کہتی ہیں کہ مصر کے دارالحکومت میں زندگی کو قریب سے دیکھنے کے لیے یہ زبردست جگہ ہے:

آخری مرتبہ سات سال پہلے میں نے عورتوں کے لیے مخصوص ڈبے میں سفر کیا تھا۔ کئی چیزیں کبھی نہیں بدلتی۔ ابھی بھی یہ پرہجوم جگہ ہے اور ہوا گرد، پسینے اور پرفیوم کی خوشبو سے اٹی پڑی ہے۔

ٹرین کے ڈبے چیزیں بیچنے والوں کے لیے پسندیدہ جگہ ہیں، جو ٹشو پیپروں سے لے کر موبائل فون کے ٹاپ اپ کارڈز یہاں بیچتے ہیں۔

لیکن کچھ چیزیں خاصی بدلی بھی ہیں۔

یہ دوپہر کا وقت ہے اور بہت سے چہرے مجھے تھکے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ لیکن بحث گرم ہے، یہ ان موضوعات پر ہو رہی ہے جو کچھ سال تک آپ بالکل نہیں سنتے تھے۔

پہلے مجھے سیٹ نہیں ملی۔ میں دو لڑکیوں کے درمیان کھڑی ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ سٹیشن کے نزدیک ہی ایک یونیورسٹی کی طالبات ہیں۔

ایک نے کہا کہ ’مجھے یونیورسٹی پہنچنے تک آدھ گھنٹہ لگا۔ یہ پاگل پن تھا۔ بھلا یہ کیا ہے۔‘

قاہرہ میں آج کل ہر طرف سکیورٹی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکیورٹی کی وجہ سے زمین کے اوپر سڑکوں پر لگائی گئی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے اب لوگ میٹرو زیادہ استعمال کرتے ہیں

یہ ایک معمول کی بات ہو گئی ہے کہ آپ بم کی آواز سے سو کر اٹھیں جس کا الزام صدر عبدل فتح السیسی کے اقتدار کے مخالف اسلامی شدت پسندوں پر لگایا جاتا ہے۔ السیسی نے 2013 میں مصر کے پہلے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے رہنما کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔

ان بموں سے اکثر زیادہ نقصان نہیں ہوتا لیکن ان کی وجہ سے قاہرہ مزید تنگ اور پر ہجوم ہو جاتا ہے۔

اس لیے میٹرو اور بھی مصروف ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ زمین کے اوپر سڑکوں پر لگائی گئی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔

ایک عورت نے، جو کہ مجھ سے چند سیٹ دور بیٹھی تھی، مجھے بتایا کہ ’جب بھی میرے بچے باہر نکلتے ہیں مجھے ڈر لگتا ہے۔‘

اس کے ساتھ بیٹھی عورت نے کہا کہ ’تمھیں پتہ ہے کہ میٹرو سے بھی بم دریافت ہوئے تھے۔ خدا ہم پر رحم کرے۔‘

میٹرو میں عورتیں مصری سماج کو درپیش کئی مسائل پر بھی بات کرتی نظر آتی ہیں جس میں گذشتہ چند برسوں سے سب سے پسندیدہ موضوع سیاست ہے۔

ایک عورت کہتی ہے کہ ’کیسے انتخابات؟ ان کو چاہیے کہ پہلے بم حملے ختم کریں۔‘

22 مارچ کو مصر کی پارلیمان کے لیے دوبارہ انتخابات شروع ہو رہے ہیں۔

Image caption میٹرو میں عورتوں اور مردوں کے لیے ڈبے مخصوص کیے گئے ہیں

لیکن یکم مارچ کو مصر کی اعلیٰ آئینی عدالت نے کہا تھا کہ انتخابات کے قانون کا کچھ حصہ غیر آئینی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ووٹنگ ملتوی ہو سکتی ہے۔

دوسری عورت نے کہا کہ ’میرے لڑکا مجھے ووٹ ڈالنے لے گیا تھا۔ کیا فائدہ ہوا اس کا؟‘

ان کی ساتھی نے کہا کہ ’جیسے پارلیمان کے علاوہ باقی سب چیزیں ٹھیک ہو گئی ہیں!‘

ان کے قریب ہی کھڑی ایک نوجوان لڑکی نے انھیں مایوس نگاہوں سے دیکھا اور پھر منھ پھر لیا۔

اس کے کچھ دیر بعد ڈبے کے دوسری طرف سے جھگڑے کی آوازیں آنے لگیں۔

ایک نوجوان لڑکی کسی درمیانی عمر کے مرد پر چلا رہی تھیں کہ ’مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آپ کو یہاں سے کیوں چلے جانا چاہیے۔ یہ آپ کی جگہ نہیں ہے، یہ خواتین کی ہے۔‘

وہ آرام سے ڈبے سے اتر گیا۔

قاہرہ میں خواتین کے لیے مخصوص ڈبے سنہ 2007 میں متعارف کرائے گئے تھے۔ زیادہ تر عورتیں ان مخصوص ڈبوں کو اس لیے استعمال کرتی تھیں کہ مردوں کے نازیبا جملوں اور نظرِ بد سے بچا جا سکے لیکن اب حالات اور بھی برے ہو گئے ہیں۔

سنہ 2013 میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 99 فیصد سے بھی زیادہ عورتوں اور لڑکیوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کسی نہ کسی طرح جنسی طور پر ہراساں ہوئی ہیں۔

جیسے ہی ٹرین اپنے آخری سٹاپ پر پہنچی کچھ عورتیں خالی سیٹوں پر بیٹھ گئیں۔

میرے ساتھ کھڑی خاتون نے کہا: ’ہمارے لیے مزید ایک دو ڈبے ہونے چاہییں۔ سانس لینے کے لیے میں کچھ زیادہ نہیں مانگ رہی۔‘

اسی بارے میں