کیا گاندھی ابھی بھی بھارتیوں کے ہیرو ہیں؟

گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ Judy Green
Image caption گاندھی جی کے مجسمے پر ایک ملین پاؤنڈ سے زئادہ لاگت آئے گی

جب گاندھی 1931 میں لندن آئے تو وہ اس شہر کے غربت زدہ علاقے مشرقی لندن میں رہے اور اس کے بعد لنکاشائر میں کاٹن ملوں کے کارکنان سے ملنے چلے گئے۔

اب ان کا مجسمہ لندن میں پارلیمنٹ سکوائر میں لگایا جا رہا جہاں بنجامن ڈسرائیلی اور ونسٹن چرچل جیسے رہنماؤں کے مجسمے نصب ہیں۔

جب مجسمے کا اعلان کیا گیا تو اس وقت وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’گاندھی کی عدم تشدد کی پالیسی ہمیشہ ایک مثبت وراثت کے طور پر گونجتی رہے گی، نہ صرف برطانیہ اور انڈیا میں بلکہ پوری دنیا میں۔

یہ مجسمہ اس شخص کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس نے سادہ طریقے سے زندگی گزاری، انسانیت سے پیار کیا اور ایک طاقتور حریف یعنی سلطنتِ برطانیہ کے خلاف عدم تشدد کی جدوجہد جاری رکھی۔

ان بہت سے لوگوں نے جنھوں نے اس مجسمے کے لیے رقوم دی ہیں وہ گاندھی کو مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک مثال سمجھتے ہیں۔

لیکن اس میں جو مضحکہ خیز بات ہے وہ یہ ہے کہ اب برطانوی اسٹیبلشمنٹ بھی گاندھی کو گلے لگا رہی ہے جو کبھی ان کا تمسخر اڑایا کرتی تھی۔

ادھر انڈیا میں سخت گیر موقف رکھنے والے ہندوؤں نے بھی گاندھی پر تنقید زیادہ کرنا شروع کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Judy Green
Image caption اس مجسمے کی رونمائی لندن کے پارلیمنٹ سکوائر میں ہو گی

وہ ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے مسلمانوں کا ساتھ دے کر ہندوؤں کے ساتھ بے وفائی کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ انڈیا کی تقسیم اور اس کے بعد ہونے والے قتلِ عام کا ذمہ دار بھی گاندھی کو ہی ٹھہراتے ہیں۔

کم از کم گاندھی کو 1948 میں قتل کرنے والے نتھورام گوڈسے کی سوچ یہی تھی۔ اس سال گاندھی کے قتل کی سالگرہ پر دائیں بازو کے ہندوؤں نے کوشش کی کہ گوڈسے کے نام پر ایک مندر تعمیر کیا جائے جس کو وہ اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔

گاندھی ہمیشہ سے ہی متنازع رہے ہیں۔ اپنے دور میں انڈیا کی آزادی سے پہلے وہ برطانوی راج کے لیے اپنی سول نافرمانی کی مہم، اپنی بھوک ہڑتالوں اور خطرناک حد تک اپنی کرشمہ ساز شخصیت کے حوالے ایک کانٹا سمجھے تھے۔

سنہ 1930 میں چرچل نے گاندھی کو ایک باغی درمیانے مندر کا وکیل کہا تھا جو کہ مشرق کے عام فقیر کے روپ میں رہتا ہے۔

لیکن آج کل کے برطانیہ میں وہ نسل جو اپنی نوآبادیاتی تاریخ پر شرمندہ ہے گاندھی کا احترام کرتی ہے۔

انڈیا میں بھی کافی سیاستدان موجود ہیں جو گاندھی کی تلقین کرتے ہیں۔ جن میں سے ایک دہلی کے نئے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجری وال بھی ہیں جن کی جماعت حال ہی میں دہلی میں انتخابات جیتی ہے۔

گاندھی کے اس مجسمے پر کم از کم دس لاکھ پاؤنڈ لاگت آئے گی۔ یہ رقم برطانیہ اور انڈیا میں مخیر حضرات نے دی ہے۔

سوال یہ ہے کہ گاندھی لندن میں لگائے جانے والے اپنے قیمتی مجسمے کے متعلق کیا کہیں گے۔

یقیناً اس کا جواب دینا ناممکن ہے لیکن ان کے ایک پوتے ارون گاندھی جو اس وقت 14 برس کے تھے جب ان کے دادا کو قتل گیا کہتے ہیں کہ انھیں شک ہے کہ ان کے دادا یہ دیکھ کر خوش ہوں گے۔

امریکہ میں اپنے گھر سے انھوں نے مجھے فون پر بتایا کہ خراجِ تحسین کا یہ طریقہ غلط ہے۔

’میرے دادا نہیں چاہتے تھے کہ لوگ ان کے مجسمے نصب کریں۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کے پیغام کو سمجھیں۔‘

اسی بارے میں