’دولتِ اسلامیہ کا بوکو حرام کی وفاداری قبول کرنے کا اعلان‘

تصویر کے کاپی رائٹ unkown
Image caption دولتِ اسلامیہ شمالی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط بڑھا چکی ہے۔

عراق اور شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کردہ ایک صوتی پیغام کے مطابق تنظیم نے نائجیریا کے شدت پسند گروہ بوکوحرام کی جانب سے وفاداری کی پیشکش قبول کر لی ہے۔

اس غیر مصدقہ پیغام میں دولتِ اسلامیہ کے ایک ترجمان کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ خلافت کے نفاذ کا دائرہ اب مغربی افریقہ تک پھیل گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے بوکو حرام نے وفاداری کا اعلان ٹوئٹر پر تنظیم کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ کے اکاؤنٹ سے جاری کیے جانے والے ایک آڈیو پیغام میں کیا تھا۔

شدت پسند تنظیم بوکوحرام نے افریقہ میں سب سے وحشیانہ بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ اس نے شمالی نائجیریا کے بڑے حصے پر تسلط قائم کیا ہے اور نائجیریا کی سالمیت کے لیے خطرہ بننے کے علاوہ پڑوسی ملک کیمرون کے ساتھ بھی سرحد پر نیا محاذ کھولا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے ممکنہ صوتی پیغام میں ایک شخص اپنا تعارف تنظیم کے ترجمان محمد العدنانی کے طور پر کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ ’ہم خلافت کی مغربی افریقہ تک پھیلاؤ کی اچھی خبر سنا رہے ہیں کیونکہ خلیفہ نے ہمارے برادر سنّی گروپ کی جانب سے تبلیغ اور جہاد کے لیے وفاداری کی پیشکش قبول کر لی ہے۔‘

پیغام میں مسلمانوں سے مغربی افریقہ میں شدت پسندوں کا ساتھ دینے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک ویڈیو پیغام میں ابوبکر شیکاؤ نے ابوبکر البغدادی کو خلیفہ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

تاحال آزاد ذرائع سے اس پیغام کی اصلیت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس ایک ویڈیو پیغام میں بوکوحرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ نے دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ’خلیفہ‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

ابوبکر شیکاؤ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تنہائی پسند، بے خوف اور پیچیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔

ماضی میں پاکستان اور افغانستان میں چند شدت پسند رہنما دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ دولتِ اسلامیہ شمالی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط بڑھا چکی ہے۔

ابوبکر البغدادی کی سربراہی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی قیادت میں قائم اتحاد فضائی کارروائیاں کر رہا ہے جبکہ عراق سکیورٹی فورسز نے اس کے خلاف کئی علاقوں میں زمینی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

اسی بارے میں