’دنیا کی بدصورت ترین خاتون‘ کا عزم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مجھے قے اس وقت شروع ہوئی جب میں نے اس ویڈیو کے نیچے لوگوں کی آرا پڑھیں: لزی

ایک خاتون جنھیں لوگ ان کی شکل و صورت کے حوالے سے تنگ کرتے رہے ہیں، وہی خاتون اس سنیچر کو امریکی ریاست ٹیکسس میں ہونے والے ایک بڑے فلمی میلے میں پیش کی جانے والی فلم کا مرکزی کردار بن چکی ہیں۔

یوں انٹرنیٹ پر موسیقی کی تلاش کی ڈھیلی ڈھالی کوشش لِزی ویلسکویز کی زندگی تبدیل کرنے جا رہی ہے۔

لزی 17 برس کی تھیں جب ایک دن ان کی نظر یو ٹیوب پر لگی ہوئی ایک ویڈیو پر پڑ گئی جس کا عنوان تھا: ’دنیا کی بدصورت ترین خاتون۔‘ لزی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جب وہ اس ویڈیو کو کھولیں گی تو انھیں معلوم ہوگا کہ اس ویڈیو میں دکھائی گئی خاتون کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود ہوں گی۔ یہ ویڈیو کلپ محض آٹھ سیکنڈ کا تھا اور اسے اس وقت تک یو ٹیوب پر 40 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔

لزی کہتی ہیں کہ ’میں ویڈیو دیکھ کر ششدر رہ گئی، لیکن مجھے قے اس وقت شروع ہوئی جب میں نے اس ویڈیو کے نیچے لوگوں کی آرا پڑھیں۔‘

’اس کے والدین نے اسے زندہ کیوں رکھا۔‘

’اس خاتون کو تو آگ لگا کر مار دینا چاہیے۔‘

ویڈیو کے نیچے اس قسم کے کلمات کا ایک ایسا سلسلہ تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

کچھ لوگوں نے لکھا کہ اس خاتون کو چاہیے کہ وہ خود کو ہلاک کر ڈالے۔ ایک شخص نے لکھا کہ اگر لوگ اس خاتون کو سڑک پر دیکھ لیں تو ان کی بینائی جاتی رہے گی۔

لزی کہتی ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انھوں نے اپنی ویڈیو کے بارے میں تمام لوگوں کی رائے پڑھی اور ان کلمات کی تعداد ہزاروں میں تھی۔

’میں کئی راتوں تک روتی رہی۔ اس وقت میں ایک نوجوان تھی اور میں نے یہی سوچا کی اب میری زندگی ختم ہو چکی ہے۔ میں کسی سے اس ویڈیو کے بارے میں بات نہ کر پائی۔ میں نے اپنے کسی دوست کو ویڈیو کے بارے میں نہیں بتایا۔ سچ یہ ہے کہ اس ویڈیو نے مجھے ہِلا کر رکھ دیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوا ہے: لزی کے والدین

لوگوں کا لزی کی شکل و صورت کا تمسخر اڑانا ان کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ دو ایسی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہونا جو بہت ہی کم لوگوں کو ہوتی ہیں، لزی جتنا چاہے کھاتیں ان کا وزن کبھی نہیں بڑھ سکتا تھا۔

لزی کو یاد ہے کہ جب انہوں نے نرسری جانا شروع کیا تھا تو ان کے ہم جماعت بچے ان سے کیسے دور بھاگتے تھے۔

اب لزی کی عمر 26 برس ہو چکی ہے لیکن ان کا وزن 27 کلوگرام سے زیادہ نہیں۔ وہ ایک آنکھ سے مکمل نابینا ہیں جبکہ انھیں دوسری آنکھ سے بھی درست دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی ساری عمر ہسپتالوں کے چکر لگاتے گزر چکی ہے۔ کبھی آنکھ کا آپریشن، کبھی کان کا آپریشن، کبھی پورے پاؤں کی سرجری، ہڈیوں کی ٹیسٹ، اور خون کے بے شمار ٹیسٹ جن سے ڈاکٹر یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ لزی کی بیماری آخر ہے کیا۔ اور پھر آخر پچھلے سال ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کو ایک نام دیا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ’مارفن سینڈروم‘ کی وجہ سے کسی وقت لزی کے جسم میں توانائی کی شدید کمی ہو جاتی ہے اور انھیں کھانسی اور نزلے جیسی عام بیماریوں سے جان چھڑانے میں بہت زیادہ وقت چاہیے ہوتا ہے۔ آج کل بھی ڈاکٹر لزی کا معائنہ کرتے رہتے ہیں اور وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مارفان سینڈروم کی وجہ سے لزی کے جسم میں کوئی دوسری تبدیلیاں تو نہیں آ رہیں۔

لزی بتاتی ہیں کہ نوجوانی کے برسوں میں ’جب میں آئینہ دیکھتی تو میری خواہش ہوتی تھی کہ میں کسی طرح اس بیماری کو اپنے چہرے سے دھو کر اتار سکوں۔ مجھے اس بیماری سے شدید نفرت تھی کیونکہ اس نے مجھے بہت دکھ دیے تھے۔ اگر ایک 13 سالہ لڑکی کو مسلسل اس کی شکل و صورت کی وجہ سے باتیں سننا پڑ رہی ہوں، تو اس کا حال کیا ہو گا؟‘

جب لزی ریاست ٹیکسس میں پیدا ہوئیں تو ان کا وزن محض 1200 گرام تھا اور ڈاکٹروں نے بچی کے والدین کو بتا دیا تھا کہ انھیں اپنی بیٹی کی تمام عمر دیکھ بھال کرنا ہوگی اور ڈاکٹروں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کتنا عرصہ زندہ رہیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’آپ اپنا تعارف کیا کراتے ہیں‘ کے موضوع پر لزی نے جو تقریر کی تھی اسے اب تک 70 لاکھ سے زیادہ مرتبہ یو ٹیوب پر دیکھا جا چکا ہے

پیدائش کے فوراً بعد ہی لزی کے والدین کو اپنی بچی سے اس قدر پیار ہوگیا کہ ریٹا اور لُوپ نے اسے گھر لے جانے کا فیصلہ کر لیا اور وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ’یہ ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوا ہے۔‘

اپنے والدین کے اسی رویے کا نتیجہ ہے کہ آج لزی سمجھتی ہیں کہ ان کی مثبت سوچ ان کے والدین کے مثبت رویے کی مرہونِ منت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ ان کے والدین کی مثبت سوچ ہی تھی کہ جب سکول یا گلی میں لوگ ان کا مذاق اڑاتے تو تب بھی لزی کی سوچ مثبت ہی رہی۔

جب لزی بچی تھیں تو تب ان کے والدین یہی کہتے تھے کہ وہ اپنا سر بلند ر کھے، مسکراتی رہے اور ہر کسی سے اچھا سلوک کرے، چاہے ان کا رویہ کتنا بُرا ہی کیوں نہ ہو۔ والدین کی یہ بات لزی کے ذہن میں ایسی بیٹھی کہ انھوں نے اس شخص کو بھی معاف کر دیا ہے جس نے نو برس پہلے یو ٹیوب پر ان کی ویڈیو لگائی تھی۔

’مجھے معلوم نہیں کہ اس پر کیا گزر رہی ہے۔ اگرچہ کبھی کبھی میرے لیے زندگی بہت مشکل ہو جاتی ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ اس کی زندگی اس سے بھی زیادہ بری ہو۔‘

لزی کہتی ہیں کہ انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ تبدیلی لانے کی پوری کوشش کریں گی۔اس کے لیے انھوں نے اپنے یو ٹیوب چینل کا آغاز کیا جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ’دنیا کی بدصورت ترین خاتون‘ کے پیچھے چہرہ کس خاتون کا تھا اور اپنے جیسے دیگر لوگوں کو یہ بھی بتانا تھا کہ وہ اپنی شکل و صورت میں رہتے ہوئے ایک پراعتماد زندگی کیسے گزار سکتے ہیں۔

آج کے ان کے یو ٹیوب چینل کے سبسکرائیرز کی تعداد 240,000 تک پہنچ چکی ہے اور انھیں سنہ 2013 میں مشہور شو ’ٹیڈ ٹاک‘ میں خصوصی خطاب کے لیے بھی بلایا جا چکا ہے۔ ’آپ اپنا تعارف کیا کراتے ہیں‘ کے موضوع پر لزی نے جو تقریر کی تھی اسے اب تک 70 لاکھ سے زیادہ مرتبہ یو ٹیوب پر دیکھا جا چکا ہے۔

لزی کی جد و جہد کا نتیجہ یہ ہے کہ ہدایت کارہ سارا ہرش سنیچر کو اپنی ایک دستاویزی فلم فلمی میلے میں پیش کر رہی ہیں جس میں لزی کی زندگی اور امتیازی سلوک کے خلاف ان کی جدو جہد کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔

سارا ہرش کہتی ہیں کہ یہ فلم ’محض لزی کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک عالمگیر کہانی ہے، ہر اس شخص کی کہانی ہے جسے امتیازی سلوک اور اپنی شکل و صورت کی بنیاد پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔‘

اسی بارے میں