’تکریت کو ایک ہفتے میں دولت اسلامیہ سے آزاد کرا لیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شیعہ ملیشیا کے جنگجو اس کارروائی میں صفِ اول پر موجود ہیں

عراق میں ایک کمانڈر کے مطابق انھیں امید ہے کہ ایک ہفتے میں تکریت شہر کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑا لیا جائے گا۔

عراق کی سرکاری فوجیں ملک کے شمال مغربی شہر تکریت میں مختلف سمتوں سے پیش قدمی کرتی ہوئی شہر کے مرکزی علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں پسپائی اختیار کرتے ہوئے دولت اسلامیہ کے جنگجو جمع ہو رہے ہیں۔

’داعش کلورین بم استعمال کر رہی ہے‘

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

عراقی سکیورٹی کی ساتھ آپریشن میں شامل شیعہ ملیشیا کے اہم کمانڈر معین الخادمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تکریت شہر کے مرکز کے 70 فیصد حصے پر اب بھی دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ تکریت کو آزاد کرا لیا جائے گا چاہے گلیوں میں بھی جنگ کیوں نہ لڑنی پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تکریت سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عراقی فوج نے تقریباً ایک ہفتہ قبل آپریشن شروع کیا تھا

اس آپریشن میں ہزاروں عراقی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ شیعہ ملیشیا کے 20 ہزار کارکن بھی حصہ لیے رہے ہیں جنھیں ایران کا تعاون بھی حاصل ہے۔

خیال رہے کہ ایران اس فوجی کارروائی میں شامل فوجیوں اور شیعہ ملیشیا کے درمیان رابطہ کاری کا کام سرانجام دے رہا ہے۔

تکریت میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شہر کے مرکز کے قریب سے توپوں کی گولہ باری اور ہلکے ہتھیاروں کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

اس سے پہلے عراق کے وزیر دفاع خالد العبیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تکریت پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ تکریت دولت اسلامیہ کے لیے ملک کے دوسرے بڑے شہر موصل سمیت دیگر شہروں پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اہم ترین ہے۔

انھوں نے کہا کہ تکریت شہر اور صوبے پر دوبارہ قبضے کی مدد سے ملک کے شمالی اور مشرقی شہروں کو آزاد کرانے میں مرکزی مقام ثابت ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوجی کارروائی میں 30 ہزار عراقی فوجی اور شیعہ ملیشیا کے ارکان حصہ لیے رہے ہیں جنھیں ایران کا تعاون بھی حاصل ہے۔

تکریت میں بی بی سی کے نامہ نگار احمد ماہر کے مطابق سکیورٹی فورسز کو سڑک کنارے نصب بم اور دیگر جنگی حربوں کی وجہ سے شہر کے مرکز کی جانب پیش قدمی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق شیعہ ملیشیا کے جنگجو اس کارروائی میں صفِ اول پر موجود ہیں اور عراقی فوجی بھی اپنی گاڑیوں پر قومی پرچم کے علاوہ شیعہ ملیشیا کے پرچم بھی لہرا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق فوجیوں نے شہر کے شمالی، جنوبی اور مغربی علاقے میں صنعتی زون اور شہر کے مرکز کے قریب ایک اہم چوک کو جنگجوؤں سے خالی کروا لیا ہے۔

جمعے کو وزیرِ دفاع خالد العبیدی نے بتایا تھا کہ تکریت کی جنگ کے بعد عراقی فوج کا اگلا ہدف ملک کا دوسرا بڑا شہر موصل ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراقی افواج کی مدد کے لیے ایرانیوں کی سرگرمیاں عسکری لحاظ سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں ایک مثبت قدم ہے: جنرل ڈیمپسی

ان کا کہنا تھا کہ ’موصل تکریت سے دس گنا بڑا شہر ہے لیکن ہم دولتِ اسلامیہ کو وہاں سے مار بھگانے کے لیے پرعزم ہیں اور یہ عراق سے ان کا خاتمہ ہوگا۔‘

خیال رہے کہ امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے بدھ کو یقین ظاہر کیا تھا کہ عراقی فوج کی تکریت میں کارروائی کامیاب ہو گی باوجود اس کے کہ اس کارروائی میں اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائیہ کی مدد حاصل نہیں ہے۔

امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے بدھ کو واشنگٹن میں سینیٹ کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نواز شیعہ ملیشیا اور عراقی فوج مل کر داعش کو تکریت سے باہر نکال دیں گی۔‘

جنرل ڈیمپسی نے شہر میں موجود سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے بارے میں تشویش کا اظہار بھی کیا ہے کیونکہ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے ارکان بھی اس لڑائی میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا اور کیا وہ سنّی خاندانوں کو ان کے علاقوں میں واپس آنے دینے کے لیے تیار ہوں گے؟ کیا وہ وہاں بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے کام کریں گے یا پھر ظلم اور انتقام کی راہ اپنائیں گے؟‘

تکریت سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عراقی فوج نے تقریباً ایک ہفتہ قبل آپریشن شروع کیا تھا۔ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند اس وقت عراق اور شام میں بڑے علاقے پر قابض ہیں جن میں عراق کا دوسرا بڑا شہر موصل بھی شامل ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اسی بارے میں