تین افراد پر دولت اسلامیہ کو مدد فراہم کرنے کاالزام

Image caption تینوں افراد اس وقت حکام کی نگاہ میں آئے جب انھوں نے حالیہ مہینوں میں ازبک زبان کی ویب سائٹوں پر تبصرے پوسٹ کیے

امریکہ کے شہر نیویارک میں رہنے والے تین غیر ملکیوں نے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو مدد یا حمایت فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔

25 سالہ عبدالرسول جورابوف اور 30 سالہ ابرار حبیبوف کا تعلق ازبکستان سے ہے، جبکہ 19 سالہ اخرور سیدخمیتوف قزاقستان سے ہیں۔ ان تینوں کو ایف بی آئی نے گذشتہ ماہ گرفتار کیا تھا۔

یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب قزاقستان کے شہری اخرور نے مبینہ طور پر ترکی کے راستے شام کا سفر اختیار کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ دولتِ اسلامیہ میں شامل ہو سکیں۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک مشتبہ شخص نے امریکی صدر براک اوباما کو ہلاک کرنے کا عہد کیا تھا۔

یہ تینوں افراد اس وقت حکام کی نگاہ میں آ گئے تھے جب انھوں نے حالیہ مہینوں میں ازبک زبان کی ویب سائٹوں پر تبصرے پوسٹ کیے تھے۔

جمعے کو تینوں ملزمان کو بیڑیاں پہنا کر نیلے رنگ کے قیدیوں والی وردی میں نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔

تینوں ملزموں نے باری باری عدالت کے سربراہ جج کو بتایا کہ وہ ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہیں جو ان پر لگائے گئے ہیں۔

اخرور سید خمیتوف کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ استغاثہ کے بقول ترکی کے شہر استنبول جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق وکیلِ صفائی ایڈم پرلمیٹر کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس سے وہ (ان کے موکل) بہت زیادہ خوفزدہ ہیں۔ تاہم وکیلِ صفائی نے کہا کہ ان کے موکل کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

استغاثے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ عبدالرسول جورابوف نے مارچ میں نیویارک سے ترکی کے شہر استنبول جانے کے لیے جہاز کا ٹکٹ خریدا تھا۔

تیسرے مشتبہ شخص کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے سید خمیتوف کو شام کے جہادیوں میں شامل ہونے کی کوششوں میں مدد فراہم کی تھی۔

گذشتہ جمعے کو عدالت کے جج نے آئندہ سماعت کے لیے 19 جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اگر ملزمان پر جرم ثابت ہوگیا تو انھیں زیادہ سے زیادہ 15 برس قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

امریکہ میں اب تک لگ بھگ 20 افراد پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے امریکہ سے شدت پسند گروپوں میں شامل ہونے کی منصوبہ بندی کی اور ان میں سے زیادہ تر کا ارادہ شام جا کر دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑنے کا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین برسوں میں 20 ہزار غیرملکی دولت اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے عراق اور شام گئے ہیں۔

اسی بارے میں