’کھلے ذہن‘ سے نوجوانوں کی تربیت کی ضرورت

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مذہبی سکول برطانیہ کے نظام کا ایک بڑا حصہ ہیں اور بہت سے افراد اپنے بچوں کو ان سکولوں میں تعلیم دلوانا چاہتے ہیں

برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو شدت پسند بننے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں کھلے ذہن سے تعلیم دی جائے۔

ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ مذہبی تعلیمی اداروں کو یہ بات یقینی بنانا چاہیے کہ ان میں زیرِ تعلیم طالب علم دیگر مذاہب کے عقائد سے اچھی طرح واقف ہوں۔

سابق برطانوی وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ لندن کے سکول کی تین طالبات نے جس طرح شام کا سفر کیا اس سے آن لائن ملنے والی معلومات کا اثر صاف ظاہر ہے۔ ان طالبات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام چلی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عدم برداشت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

متحدہ عرب امارا ت کے شہر دبئی میں گلوبل ایجوکیشن اینڈ سکلز فورم سے خطاب کرتے ہوئے سابق برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ مذہبی سکول اور تعلیم و تدریس کے غیر رسمی اداروں، سب کو چاہیے کہ وہ طالب علموں کو نہ صرف اپنے بلکہ دیگر عقائد کے بارے میں بھی تعلیم دیں۔

مذہبی سکول برطانیہ کے نظام کا ایک بڑا حصہ ہیں اور بہت سے افراد اپنے بچوں کو ایسے سکولوں میں تعلیم دلوانا چاہتے ہیں کیونکہ بعض اوقات ایسی تعلیم سے مضبوط سماجی اقدار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔’لیکن یہ سکول صرف تب ہی ٹھیک طرح کام کرتے ہیں جب وہ نظام سے اچھی طرح جڑے ہوئے ہوں اور یہ بات بہت اہم ہے کہ نوجوانوں کو تعمیری انداز میں دیگر مذاہب کے عقائد سے بھی باخبر رکھا جائے اور انھیں اس کی تعلیم دی جائے۔ ایک کھلے ذہن کے ساتھ ایسی تعلیم اب بہت اہمیت کی حامل ہے۔‘

تاہم ٹونی بلیئر کا کہنا تھا کہ مشرقی لندن کے سکول کی تین طالبات کا دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام کا سفر اختیار کرنے کا اقدام ظاہر کرتا ہے کہ نوجوان اپنے سکولوں کے علاوہ دیگر جگہوں سے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں جو ان کے ذہنوں کی تشکیل کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ عدم برداشت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے‘

’لوگوں کو صرف سکول کے کمروں میں ہی تعلیم نہیں ملتی بلکہ وہ ہرجگہ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔۔۔ انٹرنیٹ سے اور غیر رسمی نظامِ تعلیم سے۔‘

ٹونی بلیئر نے بتایا کہ حکومتوں کے لیے تعلیم کے میدان میں معنی خیز اور اہم تبدیلیاں لانا کافی مشکل کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہال کا نظام ’چٹان کی طرح بھاری ہے جسے ہلانا جلانا مشکل ہے اور یہ افسر شاہی نظام بھی ہے۔‘

’میں بطور وزیرِ اعظم سمجھتا تھا کہ چیزوں کو بدلنا آسان ہے لیکن کچھ عرصے میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ نظام اور حکومت جیسا ہے ویسا ہی چلنے دو کے اصول کے لیے بہترین ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بطور وزیرِ اعظم انھوں نے اپنے وزراء سے کہا کہ ہمیں وزیروں کی حیثیت سے نہیں بلکہ والدین بن کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں