امریکہ کے اسرائیلی مخالفت کے باوجود ایران سے مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جان کیری اور جاوید ظریف گزشتہ کئی ماہ سے مذاکرات کر رہے ہیں

امریکی کانگریس کے بعض ارکان، اسرائیل اور سعودی عرب کی طرف سے شدید مخالفت کے باوجود امریکی وزیر خارجہ جان کیری سوئٹرزلینڈ کے شہر لوسین میں اپنے ایرانی ہم منصف جاوید ظریف سے ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے بارے میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایران کے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے اکتیس مارچ کی تیسری مہلت میں چند دن باقی رہے گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق جان کیری اور جاوید ظریف کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حتمی معاہدے کے خدوخال اب نظر آنا شروع ہو جائیں گے گو کہ ابھی کئی اہم امور پر اتفاق رائے ہونا باقی ہے، جن میں یہ نکتہ بھی باقی ہے کہ ایران کو کس قدر یورینیم افژودہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

حتمی معاہدے پر پہنچنے کی مہلت ختم ہونے سے صرف دو ہفتے قبل بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مذاکرات کی پیچیدہ نوعیت کے باعث مذاکرات کاروں کو اب تک ہونے والی پیشرفت کے بارے میں کوئی نہ کوئی اعلان کرنا پڑے گا تاکہ مذاکرات کو جاری رکھنے کا جواز بنا رہے۔

اس طرح کا کوئی اعلان امریکہ میں صدر اوباما کے مخالفین اور ایران میں سخت گیر عناصر کو خاموش کرنےمیں مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔

سرکاری طور پر امریکہ اور مذاکرات میں شامل مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ان کی نظریں ایک بڑے مقصد پر لگی ہوئی ہیں اور وہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو دنیا کے تحفظ کا ضامن ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس خطرے سے جو ایک جوہری طاقت کے حامل ایران سے دنیا کو لاحق ہو سکتا تھا۔

سوئٹزرلینڈ میں جان کیری اور جاویدضریف کے درمیان مذاکرات کئی دنوں سے جاری ہیں لیکن فریقین کسی بڑی پیش رفت کے بارے میں امید نہیں دلا رہے۔

ایک سفارت کار کے مطابق گزشتہ مذاکرات میں اس وقت نیا تنازع کھڑا ہو گیا تھا جب ایران نے پندرہ ماہ سے جاری مذاکرات میں اچانک یہ مطالبہ کر دیا تھا کہ اسے اپنے زیر زمین جوہری پلانٹ میں ہزاروں سنٹری فیوجز رکھنے کی اجازت دی جائے جو یرورینیم کی افژودگی میں بہت اہم جز ہوتے ہیں۔

قبل ازیں ایران اس بات پر رضامند ہو گیا تھا کہ اس پلانٹ کو صرف سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سوئٹرزلینڈ میں جس معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کے تحت ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو دس سال کے لیے مکمل طور پر منجمد کرنا ہو گا اور اس کے عوض اس پر عائد عالمی پابندی بتدریج پانچ سال کے عرصے میں اٹھا لی جائیں گی۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل کئی مرتبہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں