سابق عراقی صدر صدام حسین کا مقبرہ تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ v
Image caption صدام کےمقبرے پر قبضہ اس وقت ہوا جب اتوار کو تکریت کے جنوب و شمال میں لڑائی میں شدت آئی اور عراقی افوج نے اعلان کیا کہ وہ اڑتالیس گھنٹوں میں تکریت کے مرکزتک پہنچ جائیں گے

سابق عراقی صدر صدام حسین کا مقبرہ ان کے آبائی علاقے تکریت میں لڑائی کے دوران مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک وڈیو کے مطابق الاوجہ گاؤں میں بنائے گئے صدام کے شاہانہ مقبرے کے چند ستون ہی باقی بچے ہیں۔

عراقی افواج اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا دولتِ اسلامیہ کوتکریت سے نکالنے کے لیے شدت پسندوں سے نبرد آزما ہیں۔

مقامی سنی آبادی کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ برس صدام کی باقیات کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

صدام کےمقبرے پر قبضہ اس وقت ہوا جب اتوار کو تکریت کے جنوب و شمال میں لڑائی میں شدت آئی اور عراقی افوج نے اعلان کیا کہ وہ اڑتالیس گھنٹوں میں تکریت کے مرکز تک پہنچ جائیں گے۔

اے پی کی وڈیو میں تکریت کے جنوب میں واقع مقبرہ ملبے کا ڈھیر نظر آتا ہے۔

صدام کی تصاویر والے پوسٹروں کی جگہ اب شیعہ ملیشیا کے جھنڈے اور ملیشیا راہنماؤں کی تصاویر آویزاں ہیں جن میں شیعہ ملیشیا کی مشاورت کرنے والے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار ِجم میوئر کے مطابق شیعہ ملیشیا کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے گاؤں پر قبضہ جاری رکھنے کے لیے شدید مزاحمت کی اور بھاگتے ہوئے کئی بم اور بوبی ٹریپ یعنی بارودی سرنگیں پیچھے چھوڑ گئے۔

Image caption صدام حسین کو امریکی افواج نے سنہ 2003 میں گرفتار کیا تھا اور عراقی عدلیہ نے اسے انسانیت کے خلاف جرائم جن میں کرد اور شیعہ مسلمانوں کا قتلِ عام شامل ہیں پر سنہ 2006 میں پھانسی دے دی تھی

شیعہ ملیشیا کے ایک لیڈر کیپٹین یاسر نومہ کا کہنا ہے کہ الاوجہ گاؤں ان مقامات میں سے ایک ہے جہاں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند زیادہ تعداد میں جمع تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہاں پر صدام کی قبر کی موجودگی تھی۔

دولتِ اسلامیہ نے گزشتہ سال اگست میں کہا تھا کہ صدام کا مقبرہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا لیکن مقامی حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقبرے کو صرف معمولی نقصان پہنچا تھا۔

صدام حسین کو امریکی افواج نے سنہ 2003 میں گرفتار کیا تھا اور عراقی عدلیہ نے اسے انسانیت کے خلاف جرائم جن میں کرد اور شیعہ مسلمانوں کا قتلِ عام شامل ہیں پر سنہ 2006 میں پھانسی دے دی تھی۔ اس کی باقیات اس مقبرے میں سنہ 2007 سے موجود تھیں۔

دولتِ اسلامیہ نے گزشتہ سال تکریت پر قبضہ کیا تھا اور اس کے سینکڑوں شدت پسند یہاں جمع تھے۔

عراقی افواج کے مطابق تکریت پر سے دولت اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنا شدت پسندوں کے خلاف ایک اہم کامیابی ہے۔

اسی بارے میں