صدر پیوتن کہاں ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کریملن کی موٹی سرخ اینٹوں کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے کی افواہوں پر جس طرح سے سرکاری حکام نے ردِ عمل دیا ہے اس سے ان افواہوں کو مزید تقویت ملی ہے

ماسکو میں روس اور کرغزستان کے صدور میں ملاقات کو کبھی بھی اتنی اہمیت نہیں دی گئی جتنی اب دی جا رہی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں صدور تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافت پر بات چیت کریں گے۔

لیکن ماسکو میں آج کل صورتحال ایسی ہے کہ اس ملاقات کو عقابی نطروں سے دیکھا جائے گا۔

اس ملاقات کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ صدر ویلادیمر پیوتن جو ہر روز میڈیا پر کسی نہ کسی وجہ سے آئے ہوئے ہیں کو پانچ مارچ سے کسی بھی تقریب میں نہیں دیکھا گیا ہے۔

ان کا منظر عام سے اس طرح غائب ہو جانے کی وجہ سے ماسکو کے لوگوں اور انٹرنیٹ پر قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں کہ کہیں کچھ تو ہوا ہے۔ کیا پیوتن بیمار ہیں، مر گئے ہیں یا ان کے خلاف بغاوت ہو گئی ہے۔

کریملن کی جانب سے ان افواہوں کو رد کیا گیا لیکن پیر یعنی آج روس اور کرغزستان کے صدور کی ملاقات ان افواہوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کردینے کا بہترین موقع ہے بشرطیکہ یہ ٹیلی کاسٹ لائیو ہو۔

اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر یہ افواہیں مزید پھیلیں گی۔

کریملن کی موٹی سرخ اینٹوں کے پیچھے کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے کی افواہوں پر جس طرح سے سرکاری حکام نے ردِ عمل دیا ہے اس سے ان افواہوں کو مزید تقویت ملی ہے۔

حکام کی جانب سے تصاویر پیش کی گئیں ہیں جس میں صدر پیوتن کو میٹنگز کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن ان تصاویر کو میڈیا نے رد کردیا کہ یہ تصاویر پرانی ہیں۔

انسٹا گرام پر چیچنیا کے رہنما اور پیوتن کے قریبی ساتھی رمضان قدیروو نے ایک پوسٹ کی ہے جس سے افواہیں اور پھیلی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Vesti.ru
Image caption جب تک صدر پیوتن کا منظر عام پر نہ آنے متعلق کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آتی تب تک یہ افواہیں گردش کرتی رہیں گی

اس پوسٹ میں رمضان نے صدر پیوتن کی حمایت کا عزم دہرایا ہے اور کہا ہے ’میں ان کی حمایت کرتا ہوں چاہے وہ عہدے پر فائز ہوں یا نہیں۔‘

اس پوسٹ سے افواہوں نے جنم لیا ہے کہ صدر کی قریبی رفقا کی یکجہتی میں دراڑ آئی ہے اور زیادہ طاقتور گروہ پیوتن کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے۔

اس افواہ کا تعلق پچھلے ماہ اپوزیشن کے رہنما بورس نیمتسوو کا کریملن کے قریب قتل سے ہے۔

اس قتل کے الزام میں افراد گرفتار کیے گئے افراد حراست میں ہیں اور ان کا تعلق چیچنیا سے ہے۔ ان میں سے ایک فرد زاؤر دادیوو کے بارے میں چیچنیا کے رہنما اور پیوتن کے قریبی ساتھی رمضان قدیروو کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک حقیقی جنگجو ہے اور حب وطن ہے‘۔

اس حوالے سے شک کیا جا رہا ہے کہ بورس کا قتل چیچنیا کے حکام کے حکم پر کیا گیا جس سے روسی انٹیلیجنس ایجنسی ایف ایس بی کے افسران ناراض ہوگئے۔ اور اسی وجہ سے صدر پیوتن کے لیے مسئلہ بن گیا ہے۔

ان افواہوں کی وجہ سے دیگر افواہوں کو رد کیا جا رہا ہے جیسے کہ سویٹزرلینڈ کے ایک اخبار کا کہنا ہے کہ صدر پیوتن اپنے سویٹزرلینڈ میں اپنے بچے کی پیدائش کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

اور جب تک صدر پیوتن کا منظر عام پر نہ آنے متعلق کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آتی تب تک یہ افواہیں گردش کرتی رہیں گی۔ ہو سکتا ہے آخر میں معلوم چلے کہ صدر پیوتن کو صرف بخار تھا۔

اسی بارے میں