ایئرایشیا حادثہ: لاشوں کی تلاش کا کام ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ میں سے کچھ تلاش ختم کرنے پر ناخوش ہیں

انڈونیشیا کی ریسکیو ایجنسی کے سربراہ بمبینگ سولسٹو نے تصدیق کی ہے کہ جاوا سمندر میں گرنے والے طیارے کے حادثے کے نتیجے میں مرنے والے افراد کی لاشوں کی تلاش کا عمل منگل سے روک دیا جائے گا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تلاش کے عمل میں مصروف بحری جہاز کو بدھ کو واپس بلا لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ایئر ایشیا کا یہ جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز پر 162 افراد سوار تھے۔

اب تک 106 لاشیں ملی ہیں جبکہ 56 کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ میں سے کچھ تلاش ختم کرنے پر ناخوش ہیں۔

ایک مسافر جن کی لاش ابھی تک نہیں ملی کے بڑے بھائی فرینکی چندارا کا کہنا ہے کہ ’ مسافروں کے اہلِ خانہ تلاش ختم کرنے پر نا خوش ہیں اور ہم اپنی تحقیقات جاری رکھیں گے۔‘

دوسری جانب ایئر ایشیا کے سربراہ ٹونی فرنینڈز نے گزشتہ ہفتے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تلاش کے عمل سے کافی مطمئن ہیں’ ہم 50 فیصد سے ذیادہ لاشیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو ایک بڑی کامیابی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تلاش کا عمل ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رکھ سکتے۔

خیال ہے کہ حادثے کے وقت طیارہ طوفان کے اوپر سے نکل جانے کی کوشش کر رہا تھا اور پائلٹ نے ایئر کنٹرول سے رابطہ کرکے طیارے کا راستہ تبدیل کرنے کی اجازت مانگی تھی۔

تفتیش کاروں کے مطابق حادثے کے وقت طیارے کا کنٹرول کم تجربہ کار شریک پائلٹ کے پاس تھا۔

اسی بارے میں