فحش مواد دیکھنے پر جج معزول

Image caption لارڈ چانسلر اور لارڈ چیف جسٹس نے فیصلہ دیا ہے کہ سرکاری اکاؤنٹ کا ایسا استعمال ’ناقابلِ معافی‘ حرکت ہے اور ’کسی عدالتی منصب دار کے لیے ایسا کردار ناقابلِ قبول ہے‘

برطانیہ کے جیوڈیشل کنڈکٹ انویسٹی گیشن آفس کےمطابق تین ججوں کو اپنے سرکاری کمپیوٹر اکاؤنٹ پر فحش مواد دیکھنے پر نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ فحش مواد غیر قانونی طرز کا نہیں تھا۔ تاہم لارڈ چانسلر اور لارڈ چیف جسٹس نے فیصلہ دیا ہے کہ سرکاری اکاؤنٹ کا ایسا استعمال ’ناقابلِ معافی‘ ہے اور ’کسی عدالتی منصب دار کے لیے ایسا کرنا ناقابلِ قبول ہے۔‘

ایک چوتھے جج نے سرکاری تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنے منصب سے استعفی دے دیا تھا۔

ڈسٹرکٹ جج ٹِموتھی بولز، امیگریشن جج وارن گرانٹ اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج اور ریکارڈر پیٹر بولّوک کو اپنے دفاتر سے نکال باہر کیا گیا ہے۔

ان تینوں ججوں کا آپس میں کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

چوتھے جج، ریکارڈر اینڈریو ماؤ نے بھی اپنے سرکاری کمپیوٹر اکاؤنٹ پر فحش مواد دیکھا۔

اگر ریکارڈر ماؤ نے تفتیش مکمل ہونے سے پہلے استعفیٰ نہ دیا ہوتا تو لارڈ چانسلر اور لارڈ چیف جسٹس نے ان کو بھی معزول کر دیا ہوتا۔

جج اینڈریو ماؤ لنکن کاؤنٹی کورٹ میں ملازمت کرتے تھے۔ ڈسٹرکٹ جج ٹِموتھی بولز رمفورڈ کاؤنٹی کورٹ میں اور جج پیٹر بولّوک نارتھ ایسٹرن سرکٹ میں تعینات تھے۔ جبکہ جج وارن گرانٹ امیگریشن اینڈ اسائلم چیمبر ٹیلر ہاؤس لندن میں ملازم تھے۔

جیوڈیشل کنڈکٹ انویسٹی گیشن آفس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان ججوں کو اب کسی قسم کی عدالتی ملازمت کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ جج اپنی معزولی کے خلاف اپیل نہیں کر رہے۔

اسی بارے میں