بدھا کو ہیڈ فون ’پہنانے‘ پر سزا

پوسٹر تصویر کے کاپی رائٹ Philip Blackwood
Image caption عدالت کا کہنا ہے کہ پوسٹر سے جان بوجھ کر مذہب کی توہین کی گئی ہے

میانمار میں تین افراد کو مذہب کی توہین کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔

تین افراد میں سے دو کا تعلق برما جبکہ تیسرے کا نیوزی لینڈ سے ہے۔ انھیں ایک مشروب کے اشتہار میں بدھا کو ہیڈ فون پہنے ہوئے دکھانے پر سزا سنائی گئی۔

فلپ بلیک وڈ جو ینگون میں وی گیسٹرو پار چلاتے تھے انھیں بار کے مالک ٹن تھورین اور ایک ساتھی ہٹٹ کو کو کے ہمراہ دسمبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تینوں افراد کو ڈھائی ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

برما کے قانون کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین یا اسے نقصان پہچانا غیر قانونی ہے۔

اس پوسٹر میں جسے فیس بک پر پوسٹ کیا گیا تھا بدھا کو مختلف رنگوں میں گھرا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اس کے فیس بک پر آنے کے بعد اس پر شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

حالیہ برسوں میں میانمار میں بودھ قوم پرستی میں بڑھاوا دیکھنے میں آیا ہے۔

تینوں افراد نے مذہب کی توہین سے انکار کیا ہے۔ ٹن تھورین نے عدالت کو بتایا کہ صرف بلیک وڈ اسے فیس بک پر پوسٹ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ بلیک وڈ پہلے ہی اس کی آن لائن معافی مانگ چکے ہیں اور انھوں نے عدالت میں بھی اس پر معذرت کی تھی۔

Image caption نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے شخص بلیک وڈ نے پوسٹر کے فیس بک پر لگانے کی معافی مانگی تھی

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جج یی لوِن نے کہا کہ اگرچہ بلیک وڈ معذرت کر چکے ہیں لیکن انھوں نے جان بوجھ کر مذہبی عقائد کی تضحیک کا منصوبہ بناتے ہوئے اس پوسٹر کو فیس بک پر اپ لوڈ کیا۔

بلیک وڈ نے کہا ہے کہ وہ سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔

انھوں نے ینگون بی بی سی کے جوناح فشر کو بتایا کہ انھیں عدالت کے فیصلے پر بڑی مایوسی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ایشیا ڈائریکٹر فل رابرٹسن نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اگرچہ تینوں افراد نے ثقافتی طور پر عدم حساسیت کا مظاہرہ کیا تھا لیکن پھر بھی انھیں جیل نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میانمار میں اظہارِ رائے پہلے سے زیادہ خطرے میں ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے بودھ قومیت پرستی میں تیزی کا رجحان ہے اور انتہا پسند راہب وراتھو جیسے لوگوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور مسلمان اقلیتوں پر حملے ہو خصوصاً روہنگیا ریاست میں۔