ہِلزبرا پولیس چیف 96 اموات کے ’ذمہ دار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لیورپول اور ناٹنگھم فارسٹ کے مابین ایف اے کپ کے سیمی فائنل میچ کے دوران ہِلزبرا سانحے میں لیرپول کے 96 فین بھگدڑ مچنے اور کچلے جانے کے سے ہلاک ہو گئے تھے

برطانیہ ِکے شہر ہلزبرا میں 1989 میں ہونے والے فٹبال میچ سانحے کے دوران ایک سرنگ نہ بند کرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 96 افراد کی اموات کی ذمہ داری اس وقت کے پولیس کے سربراہ نے قبول کر لی ہے۔

ڈیوڈ ڈکن فیلڈ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سانحے کے وقت ’منجمد‘ ہو گئے تھے۔

انھوں نے ان باتوں کا اعتراف ہِلزبرا سانحے کے بارے میں جاری ایک نئی تفتیش کے چھٹے روز وارنگٹن چیشائر میں کیا۔

پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اور ویلز کے وکیل پال گرینی نے اس موقع پر ان سے سوالات کیے۔

70 سالہ ڈیوڈ ڈکن فیلڈ نے اس سے قبل ’بات دبا دینے‘ اور حادثے کے دوران ’گھبراہٹ‘ میں مبتلا ہونے کے الزامات رد کر دیے تھے۔

جیوری کو بتایا گیا کہ سابق چیف سوپر انٹینڈنٹ ڈکن فیلڈ کے پاس کم از کم تین منٹ تھے جن میں انہیں سٹیڈیم سے باہر نکلنے کا گیٹ کھولنے کا فیصلہ کرنا تھا جبکہ سٹیڈیم کے باہر بھی شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

پولیس فیڈریشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’اوسط ذہانت‘ کا حامل ایک بچہ بھی اس بات کا اندازہ کر سکتا تھا کہ 2000 افراد کو اندر آنے کی اجازت دینے کے کیا نتائج نکلیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ ڈکن فیلڈ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ سانحے کے وقت ’منجمد‘ ہو گئے تھے

لیکن ڈیوڈ ڈکن فیلڈ کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود پر حالات کے دباؤ کے باعث ’اس دن اس بارے میں نہیں سوچا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا ’قطعاً اندازہ نہیں تھا‘ کہ لیورپول فینز گیٹ کے ذریعے اس سرنگ یا ٹنل کی جناب بڑھیں گے جو کھچا کھچ بھرے سٹیڈیم کی سیٹریوں تک جاتا تھا۔

دورانِ سماعت جب وکیل نے ان سے پوچھا کہ اگر سرنگ بند کرنے میں ان کی ناکامی 96 افراد کی اموات کا سبب بنی تو انھوں نے جواب دیا ’یس سر‘۔

وکیل نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ سانحے کے دن اپنے عہدہ کے لیے نااہل تھے تو انھوں نے جواب دیا کہ’ میرے خیال میں کچھ لوگ اس بات سے متفق ہو گے‘۔

وکیل نے ان پر فٹ بال گرائونڈ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہونے کے امر کو ’پوشیدہ‘ رکھنے کا الزام عائد کیا جسے انھیں نے قبول نہیں کیا۔

جب وکیل نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ان حالات میں ’منجمد‘ ہو گئے تھےتو انھوں نے جواب دیا کہ ’حقیقت میں ہم سب ہی صدمہ یا شاک میں تھے‘۔

اس کے جواب میں وکیل نے کہا کہ میچ کمانڈر کا کام ’صدمے سے نکلنا‘ ہوتا ہے۔

ڈیوڈ ڈکن فیلڈ نے جواب دیا:’ جی سر لیکن میں انسان ہوں‘۔

خیال رہے کہ لیورپول اور ناٹنگھم فارسٹ کے مابین ایف اے کپ کے سیمی فائنل میچ کے دوران ہِلزبرا سانحے میں لیرپول کے 96 شائقین بھگدڑ مچنے اور کچلے جانے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں