’شیعہ ملیشیا دولتِ اسلامیہ سے کہیں بڑا مسئلہ بن سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسرور برزانی کے مطابق داعش ملک میں ماضی میں کی جانے والی سیاسی غلطیوں کا نتیجہ ہے

عراقی کردوں کے اہم رہنما مسرور برزانی نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شیعہ ملیشیا کے عراقی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

عراقی کردستان میں انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے امور کے سربراہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی حکومت کی جانب سے تکریت میں ایران نواز شیعہ جنگجوؤں کا استعمال ملک میں شیعہ سنی تنازع کی شکل میں دولتِ اسلامیہ سے کہیں بڑا مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اسے داعش کے خلاف جنگ کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ ہم سب کو مل کر داعش کے خلاف لڑنا ہے۔ لیکن اگر فرقوں اور نسلی گروہوں کے درمیان بدلے اور ردعمل کے جذبات ابھرتے ہیں تو یقیناً یہ مزید مشکل اور پیچیدہ مسئلہ بن جائے گا جس پر قابو پانا زیادہ مشکل ہوگا۔‘

مسرور برزانی نے عراقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کردوں کو مالی مدد فراہم کرنے کی بجائے اس رقم سے شیعہ ملیشیا کو ادائیگی کر رہی ہے۔

’وہ موصل اور انبار میں پیسے دے رہے ہیں جو داعش کے زیرِ قبضہ علاقے ہیں۔ وہ کردستان کو رقم کیوں نہیں دیتے جو ان کا اتحادی ہے۔ ہم ایک مشترکہ دشمن کے خلاف برسرِ پیکار ہیں تو پھر ہمیں مناسب مدد کیوں نہیں مل رہی۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’جب شیعہ ملیشیا کو پیسے مل رہے ہیں تو پیش مرگہ کو کیوں نہیں؟‘

برزانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ داعش ملک میں کی جانے والی سیاسی غلطیوں کا نتیجہ ہے اور خطے میں طویل المدتی سیاسی حل کے لیے تمام گروہوں کے مفادات کو مدِنظر رکھنا ہو گا۔

’پہلے القاعدہ تھی، آج داعش ہے، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔ یہاں کچھ پرانی اور تاریخی غلطیاں ہیں جن کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہاں سنّیوں، کردوں اور شیعوں سب کو مطمئن کرنا ہے اس لیے کسی ایک کو ناخوش کر کے دوسرے کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی حل نکلے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرا مطلب یہ ہے کہ سب کے لیے کچھ نہ کچھ بطور ضمانت ہونا چاہیے کہ آنے والا دور روشن اور محفوظ مستقبل کا ضامن ہو گا۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے تحت سب لوگ اکٹھے رہنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں