جنگ زدہ شام میں روشنی کی تلاش

پناہ گزین تصویر کے کاپی رائٹ GETTY
Image caption شام سے بے گھر ہونے والے لاکپوں پناہ گزین بہت مشکل زندگی گزار رہے ہیں

شام کی جنگ پانچویں سال میں داخل ہو گئی ہے اور اس ملک پر کالے بادلوں کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ صرف سیٹلائیٹ سے کھینچی گئی تصاویر نہیں جو دکھاتی ہیں کہ 83 فیصد آسمان رات کے وقت مزید اندھیرے میں گھرا رہتا ہے کیونکہ بہت زیادہ انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور لاکھوں افراد کو گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔

یہ نہیں کہ عام شہریوں کو بچانے کے لیے مسلح فوج کے استعمال اور انسانی امداد تک زیادہ رسائی کی صرف اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اور بس یہی نہیں کہ شام کے دونوں طرف کے رہنما ابھی تک نہیں سمجھ پائے کہ مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

ان کے غیر ملکی اتحادی بھی جو کہ انھیں فوجی اور اقتصادی مدد فراہم کر رہے ہیں انھیں ایسا سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

اور بہت زیادہ شامی شہریوں کی یہ امید بھی ختم ہو رہی ہے کہ یہ بُرا خواب جلد ختم ہو جائے گا۔ کسی کو اس کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ سلسلہ اتنا طویل عرصہ چلے گا اور اس سے اتنا نقصان ہو گا۔

آپ کو یہ لاکھوں شامی بچوں کی آنکھوں میں نظر آتا ہے، ان کے تھکے ماندے والدین کی آنکھوں میں، جو کہ اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، یا جنھیں زبردستی ملک بدر ہونا پڑا ہے، اور یہ اب جان گئے ہیں کہ ان کا گھر جانے کا خواب، سکول جانے کا خواب بس خواب ہی ہے۔

آپ کو یہ تعلیم یافتہ شامی نوجوانوں کی درد بھری آنکھوں میں بھی نظر آتا ہے جو چار سال پہلے سمجھتے تھے کہ پرامن سیاسی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ انھوں نے اس روشن انعام کو حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا، یہاں تک کہ اپنا مستقبل بھی، اور اب انھیں غصہ ہے کہ وہ اپنا سب کچھ تقریباً ہار چکے ہیں۔

مشرقِ وسطی کے سابق ایلچی لارڈ مائیکل ولیمز نے حال ہی میں بڑے افسوس کے ساتھ مجھے بتایا کہ ’ہمارے پاس اس بحران کو حل کرنے کے لیے سبھی بین الاقوامی ادارے موجود ہیں۔‘

انھوں نے 1990 کی دہائی میں ہونے والے بوسنیا کی جنگ کے دوران بین الاقوامی کوششوں کے تجربے کی طرف اشارہ کیا۔ بین الاقوامی مداخلت کے سبھی دستیاب اداروں کی طرف، بشمول فوجی طاقت اور انصاف کے لیے بین الاقوامی جرائم کا ٹریبیونل جو کہ سابق یوگوسلاویہ کے لیے بنایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کی لڑائی میں شہر کے شہر تباہ ہو چکے ہیں

اس ہفتے لارڈ ولیمز نے لکھا تھا کہ جب شام کی بات ہوتی ہے تو یہ بہت بد دل کرنے کی بات ہے کہ وہاں بین الاقوامی مداخلت کا امکان بہت کم ہے، اور اگر سچ بولا جائے تو بین الاقوامی انصاف کا بھی۔

1951 کے بین الاقوامی پناہ گزینوں کے کنوینشن کا بھی احترام نہیں کیا گیا۔ لارڈ ولیمز کہتے ہیں کہ سویڈن کے علاوہ کسی بھی مغربی ملک نے گذشتہ 100 سال میں کسی بھی تنازعے کی نسبت اس مرتبہ سب سے کم پناہ گزینوں کو اپنے ممالک میں پناہ دی۔

جرمنی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 20,000 شامی شہریوں کو پناہ دے گا۔ برطانیہ نے بھی 500 کا وعدہ کیا ہے لیکن ابھی تک صرف 100 کو پناہ دی ہے۔

سرد جنگ کے بعد مشرق اور مغرب کے بحران کو حل کرنے کے لیے تعاون سنہ 2013 میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے کے امریکہ اور روس کے درمیان معاہدے سے بھی زیادہ مشکل بنتا جا رہا ہے۔

واشنگٹن کی ترجیحات میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑائی اور ایران کے جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات شامل ہیں۔

واشنگٹن میں مقیم شام کے سرکردہ کارکن کہتے ہیں کہ ’وہ اب اس میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے۔‘

امدادی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کے سربراہ جسٹن فورستھ کہتے ہیں کہ ’شام کے پاس مرکل اور اولاند نہیں ہیں۔‘ ان کا اشارہ یوکرین اور روس کے بحران کو حل کرنے کے لیے یورپ کی کوششوں کی طرف تھا۔

اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا جا رہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ہو جاتا ہے تو مغرب پھر ایران کو جو کہ شامی حکومت کا سب سے بڑا حمایتی ہے، کہے گا کہ صدر بشار الاسد پر دباؤ بڑھائے۔

لیکن تہران اور ماسکو کے لیے القاعدہ اور النصرہ فرنٹ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بعد صدر بشار الاسد کے خلاف کسی بھی اقدام کا مطلب مزید بے ترتیب مستقبل کی طرف ایک قدم ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایران صدر بشار الاسد کی حکومت کے سب سے بڑے حمایتیوں میں سے ہیں

بہت سی دیگر مغربی حکومتیں بھی یہی سمجھتی ہیں، اگرچہ اب بھی وہ اصرار کرتی ہیں کہ ’صدر اسد مسئلے کا حصہ ہیں، حل نہیں۔‘

ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے مجھے بتایا کہ جب وقت آئے گا تو ہم دوسری باتوں کے متعلق بھی سوچیں گے۔ لیکن ابھی اس کا وقت نہیں ہے۔

اگرچہ مغرب اور خلیجی اتحادیوں کی طرف سے مسلح کیے گئے گروہ آہستہ آہستہ میدانِ جنگ میں کمزور پڑ رہے ہیں، تاہم مغربی ممالک کے سیاسی اور فوجی رہنما اب بھی اعتدال پسند شامی حزبِ اختلاف کی حمایت کرنے کی بات کرتے ہیں۔

مجھے ایک مغربی انٹیلیجنس کے اہلکار نے بتایا کہ اگرچہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے النصرہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے اور یہ امریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیے ہوئے گروہوں کی فہرست میں شامل ہے، لیکن اس کے باوجود ان پر النصرہ سے مذاکرات کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے

لیکن اس ماہ ایک امید کی کرن بھی پیدا ہوئی جب فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کو سبھی فریقوں کی طرف سے دمشق کے جنوب میں یرموک کے مقام پر خوراک اور ادویات تقسیم کرنے کی اجازت مل گئی۔ اس کے لیے اسے تین ماہ کوششیں کرنا پڑی ہیں۔

لیکن اس سے شام کے رہنے والوں کی خوراک، پانی، طبی سہولتوں اور سب سے زیادہ ضروری آزادی کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔

اور یہ سب بہت نازک ہے، جنگ کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا۔

اور پورے شام کی طرح یہ بھی ایک بڑے سیاہ کالے دائرے میں روشنی کی ایک چھوٹی سی کرن ہے۔

اسی بارے میں