’شامی فوج نے کلورین بموں سے حملہ کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کلورین ایک کمیائی مواد ہے جس کا ہتھیار کے طور پر استعمال کیمکل ویپنز کنوینشن کے تحت ممنوع ہے

شام سے تعلق رکھنے والے دو سرگرم گروپوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شامی فوج نے شمال مغربی صوبے اِدلب میں پیر کی شام ایک حملے میں کلورین گیس استعمال کی۔

ان گروپوں کے مطابق سرمین کےمقام پر طیاروں سے بیرل بم گرائے گئے جن میں زہریلا کیمائی مواد تھا جس سے تین بچوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ ان گروپوں کے مطابق اس حملے میں علاقے کے درجنوں رہائشیوں کو سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔

تاہم شام کی فوج نے ان اطلاعات کو پروپیگینڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

جنوری میں عالمی تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ شامی حکومت تین ایسے دیہات پر فضائی حملوں کی ذمہ دار ہے جہاں کلورین گیس استعمال کی گئی۔

منگل کو شام کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ فضائیہ نے شمالی علاقے لاطاقیہ میں امریکہ کا ایک جاسوس طیارہ مار گرایا۔ تاہم اس واقعے کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی اگرچہ اطلاعات یہی ہیں کہ شامی فوج نے امریکی ڈرون کو نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوری میں عالمی تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ شامی حکومت تین ایسے دیہات پر فضائی حملوں کی ذمہ دار ہے جہاں کلورین گیس استعمال کی گئی

سرمین میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ پیر کی رات حکومت کے ہیلی کاپٹروں نے دو مقامات پر کلورین سے بھرے بیرل بم گرائے۔ پہلے بم کا نشانہ باغی جنگجو تھے جن میں سے 20 زخمی ہوئے جبکہ دوسرا بم ایک رہائشی علاقے پر گرایا گیا۔

ایک مقامی میڈیکل کلینک پر موجود عینی شاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’رات پونے نو بجے کے قریب ہم نے ہیلی کاپٹروں کی آوازیں سنیں۔ ہم نے کسی دھماکے کی آواز نہیں سنی۔ اس کے فوراً بعد کلینک پر زخمی آنا شروع ہوگئے۔ ہمارے پاس 70 کے قریب مریض لائے گئے۔ مریضوں کوسانس لینے میں دشواری تھی اور آنکھ اور ناک میں سوزش اور خراش جیسی شکایت تھی۔ غالب امکان یہی ہے کہ وہ کلورین گیس کا نشانہ بنے۔‘

شامی پوزیشن کے ایک نیٹ ورک اور برطانیہ میں شام سے تعلق رکھنے والے ایک نگراں گروپ کا کہنا ہے کہ چھ افراد پر مشتمل ایک خاندان جس میں ایک مرد، اس کی والدہ، بیوی اور تین بچے تھے، کلورین گیس کی زد میں آنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے شامی فوجی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ کلورین گیس استعمال کیے جانے کی اطلاعات پروپیگینڈا ہیں۔ ’ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم اس طرح کا ہتھیار استعمال نہیں کریں گے اور ہمیں کلورین گیس استعمال کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔‘ یہی بات شام کے صدر بشارالاسد نے گذشتہ ماہ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی تھی۔

تاہم مغرب کے حمایت یافتہ اپوزیشن اتحاد کے صدر خالد خوجہ نے صدر اسد پر سرمین میں ہونے والے حملے کا الزام عائد کیا اور ٹوئٹر پر لکھا ’ذہنی اور نفسیاتی مرض میں مبتلا شامی آمر کیمائی مواد استعمال کر کے لوگوں کی جان لے رہا ہے اور عالمی قوانین کو چلینج کر رہا ہے۔‘

کلورین ایک کمیائی مواد ہے جس کا ہتھیار کے طور پر استعمال کیمکل ویپنز کنوینشن کے تحت ممنوع ہے۔ اگست سنہ 2013 میں دمشق کے گردو نواح میں گیس سارین کے استعمال کے بعد شام نے کیمکل ویپنز کنوینشن پر دستخط کیے تھے۔ اس واقعے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مغرب کا کہنا ہے کہ ایسا حملہ صرف حکومت ہی کر سکتی تھی لیکن شامی حکومت کا الزام تھا کہ یہ گیس باغیوں نے استعمال کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روئٹرز سے بات کرتے ہوئے شامی فوجی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ کلورین گیس استعمال کیے جانے کی اطلاعات پروپیگینڈا ہیں

اسی بارے میں