ابو عزرائیل:دولتِ اسلامیہ کے لیے ’موت کا فرشتہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption ابو عزرائیل کا لقب پانے والے رُبائی کا دعویٰ ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف نصف درجن مقامات پر لڑ چکے ہیں

عراق کے شہر تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف تیزی سے جاری جنگ میں حکومتی فوج کو درجنوں شیعہ جنگجوؤں کی مدد حاصل ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر اسی جنگ میں شامل ایک سپاہی کے ہزاروں مداح بن چکے ہیں لیکن اس سپاہی کی کہانی سے ایران کی ’پروپیگنڈا مشین‘ کے بارے میں بھی انکشافات ہوتے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے اس سپاہی کے پاس ایک کلہاڑی، تلوار اور مشین گن ہے اور میدانِ جنگ میں ان کے کارنامے ایک افسانوی قصے کی مانند شہرت حاصل کر چکے ہیں۔

لیکن وہ شخص ہے کون جسے انٹرنیٹ پر ہزاروں افراد نے ’موت کے مقرب فرشتے کا باپ‘ کا لقب دیا ہے؟

بِنا بالوں کے سر اور چہرے پر غیر معمولی داڑھی کے ساتھ وہ اپنی اکثر تصاویر میں مسکراتے دکھائی دیتے ہیں، حتٰی کہ تب بھی ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہی ہوتی ہے جب انھوں نے اپنے پسندیدہ ہتھیار اٹھا رکھے ہوں۔

فیس بک پر ان کے کارناموں کے بارے میں بنائے گئے خصوصی صفحے کو اب تک تین لاکھ سے زائد افراد پسند کر چکے ہیں۔ ان کے پرستاروں میں زیادہ تر کا تعلق عراق سے ہی ہے۔

انھیں بہت ہی خوفناک نام دیا گیا ہے اور وہ ہے ابو عزرائیل یا ’موت کے فرشتے کا باپ۔‘

بلاشبہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کا معاملہ کوئی سیدھی سادی بات نہیں اور ابو عزرائیل کی کہانی کے بنیادی حقائق کو ثابت کرنا بھی مشکل ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ان کا اصل نام ایوب فالح الربائی ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اب تک وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف نصف درجن مقامات پر جنگ لڑ چکے ہیں۔

لیکن ان کا تجربہ موجودہ جنگ سے پیچھے کہیں دور تک جاتا ہے۔ انھوں نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ وہ عراق میں امریکی فوج کے خلاف لڑنے والی ’مہدی آرمی‘ کا حصہ تھے۔ انھوں نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کی کوشش کرنے والے شامی باغیوں کے خلاف دمشق کے قریب ہونے والی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AL ALAM
Image caption ابو عزرائیل کے مداحوں میں ایک بڑی تعداد ایران میں بھی موجود ہے

دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنی سفاکانہ جنگ کی داستان سناتے ہوئے رُبائی نے اے ایف پی کو یہ بھی بتایا کہ وہ پانچ بچوں کے والد ہیں۔

’آپ مجھے دیکھیں گے کہ میں اپنے بچوں کو سکول پہنچا رہا ہوں اور بہت پرامن نظر آؤں گا۔ لیکن ان (دولتِ اسلامیہ) کے لیے میرا دوسرا چہرہ ہے۔‘

میدانِ جنگ کی دلیری اور بظاہر ان کا عام سا پس منظر، یہ فرق ہی ان کی کہانی کو پرکشش بناتا ہے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ایران کے سرکاری ٹی وی العالم کا کہنا ہے کہ رُبائی عراق کی ایک یونیورسٹی میں فزیکل ایجوکیشن کے استاد ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ تائی کوانڈو اور بندوق چلانے کے بھی ماہر ہیں۔

عراق کے حالات کے بارے میں خبر دینے والے عراق لائیو اپ ڈیٹ نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ میں بھی ابو عزرائیل کی کہانی کو اہمیت دی گئی ہے۔

انھیں عراق کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ کے ساتھ ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

لیکن وہاں بیان کی جانے والی کہانی اس خیال کی تردید کرتی ہے کہ ابو عزرائیل کسی یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ بی بی سی ٹرینڈنگ کو پتہ چلا کہ دراصل وہ خصوصی آپریشنز میں حصہ لینے والے تجربہ کار جنگجو ہیں۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی زندگی کی کیا تفصیلات ہیں۔ ابو عزرائیل کی کہانی اہمیت اس اندر کی معلومات کی وجہ سے ہے جو وہ ایران کے پروپیگنڈے کے بارے میں دیتی ہے۔

ان کی طرح بہت سے شیعہ جنگجوؤں کی سنّی مسلمانوں کے گڑھ تکریت میں موجودگی بہت سے لوگوں کے لیے باعث تشویش ہے۔

وہاں لڑنے والے بہت سے فوجیوں پر ایران کے ساتھ رابطوں کا الزام ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان کی موجودگی سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

فیس بک کے جن صفحات پر ابو عزرائیل کی بہت زیادہ تائید کی گئی، ان میں سے ایک میں ان کی تصویر کو ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی سپیشل فورس کے نام سے موسوم بھی کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption عراق کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ کے ہمراہ ابو عزرائیل کی ایک تصویر

اطلاعات کے مطابق ایران کی انقلابی فورس میں شامل ’قدس فورس‘ تکریت میں جاری جنگ میں ملوث ہے۔

امریکی ریاست میری لینڈ میں موجود فِلپ سمتھ شیعہ ملیشیاؤں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابو عزرائیل خود کاتِب امام علی ملیشیا کے رکن رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ گروہ گذشتہ سال گرمیوں میں بنایا گیا تھا اور اس نے قیام کے بعد ایک حکمتِ عملی کے تحت فوری طور پر اپنے قابل ترین سپاہیوں کو مشہور کرنا شروع کر دیا۔

فِلپ سمتھ بتاتے ہیں کہ ’میں کئی سال سے فیس بک اور سوشل میڈیا پر شیعہ ملیشیا کو دیکھ رہا ہوں اور یہ (ابو عزرائیل) ان کی منظم مہم کی مثال پہ صادق آتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ 2014 کے آخر میں ابو عزرائیل کا اپنا فیس بک اکاؤنٹ اور صفحات سامنے آئے۔ ’انھوں نے ایک اچھا کردار ترتیب دیا ہے اور ابتدائی ویڈیوز میں انھیں جرات مندانہ یا دلچسپ کام کرتے ہوئے دکھایا گیا۔‘

سمتھ بتاتے ہیں کہ کاتب ملیشیا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مواد شائع کیا ہے جس میں بہت سے سر دکھائے گئے ہیں اور ان کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو ہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فیس بک پر ابو عزرائیل کے مداحوں میں زیادہ تر عراقی ہیں تاہم ایران سے تعلق رکھنے والوں نے بھی اس میں خاصی دلچسپی لی ہے۔

تصاویر کو شیئر کرنے والے مداحوں نے ابو عزرائیل کی ظاہری سخت شخصیت کو جھوٹا قرار دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک رحم دل اور شگفتہ مزاج کے حامل انسان ہیں۔

آن لائن شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر میں یہ قیاس کیا گیا ہے کہ میدان جنگ میں ابو عزرائیل اپنی موٹرسائیکل پر مسکراتے ہوئے یا ہاتھ لہراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

ان کے ایک مداح نے ایک کارٹون بھی بنایا ہے جس میں ابو عزرائیل ایک دشمن کو بطور سزا آٹے میں ڈال دیتے ہیں۔