چرنوبل کی حفاظت ہزاروں ٹن وزنی ڈھانچے سے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ گنبد نما ڈھانچہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے اندر کئی 747 بوئنگ جہاز ایک ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں

یوکرین کے چرنوبل جوہری پلانٹ میں 26 اپریل1986 کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جوہری سانحہ پیش آیا۔

لیکن اب اس پلانٹ کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے قریب ہی ایسا ڈھانچہ بنانے کا کام جاری ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

شمالی مشرقی یوکرین کے اس علاقے میں اب تک چرنوبل جوہری پلانٹ سب سے بڑی عمارت تھی لیکن اب اس سےبھی بڑا ایک نیا ڈھانچہ تیار ہو رہا ہے جو پلانٹ کو حفاظت فراہم کرنے کا کام کرے گا۔

اس منصوبے کے تحت ایک بے حد لمبی،گبند نما ایسی ایک محفوظ عمارت بنائی جائے گی جو اس جوہری پلانٹ کو ڈھانپ لے گی۔ اس پلانٹ کے اندر متعدد ری ایکٹر ہیں اور جو کہ 1986 میں حادثے کا شکار ہوئے تھے۔

ری ایکٹروں کے بالکل اوپر ابھی بھی تابکاری کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس عمارت کا اس جگہ بنانا ناممکن تھا جہاں اس کی ضرورت تھی۔ جو بھی وہاں کام کرتا وہ وہاں صرف تھوڑی دیر کے لیے ہی رک سکتا تھا۔ اسی لیے نئے ڈھانچے کو بنانے اور اسے اس کی جگہ پر رکھنے سے پہلے اس پلانٹ کے قریب والی جگہ کو صاف کیا گیا اور تابکاری سے پاک کیا گیا جو بذاتِ خود ایک بڑا کام تھا۔

یہ گنبد نما ڈھانچہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے اندر کئی 747 بوئنگ جہاز ایک ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ وسیع ڈھانچہ لوہے کی بہت بڑی پٹریوں پر کھڑا ہوگا اور مکمل ہونے پر اس کا وزن تقریباً 31 ہزار ٹن ہو گا۔

جوہری پلانٹ کے اوپر اسے لے جانے سے پہلے کئی دن تک ایک مخصوص ٹریک پر چلایا جائے گا اور بعد میں اسے پلانٹ پر لے جایا جائے گا اور اس سے پلانٹ اس ڈھانچے کے اندر بند ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈھانچے کو تیار کر کے پلانٹ کے اوپر نصب کر دیا جائے گا

چرنوبل پلانٹ کو قدرے کم خطرناک بنانے کی عالمی مہم چلانے والے اور یورپین بینک کے جوہری پلانٹس کی حفاظت سے متعلق شعبے کے سربراہ ونسی نووک کا کہنا ہے کہ ’اس ڈھانچے کو بنانے کا کام بہت پیچیدہ اور منفرد تھا۔ اس سے قبل ہم نے اس طرح کا کام کبھی انجام نہیں دیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے ’جب تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو جاتا ہے ہم محفوظ نہیں ہیں۔‘

اس کے اندر موجود ری ایکٹروں میں بے حد خطرناک مواد موجود ہے جس میں ایک سو ٹن سے زائد یورینیئم، ایک ٹن پلوٹینیئم، اور دوسرے تابکار مواد موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایک طویل عرصے سے یہاں موجود ہونے کی وجہ سے یہ مواد زیادہ خطرناک شکل اختیار کر گئے ہیں۔

اس کے علاوہ پلانٹ پر حادثے کے بعد ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے یہاں ڈالی گئی ہزاروں ٹن ریت اور بورک ایسڈ بھی اس مواد میں شامل ہو گیا ہے۔

پلانٹ کے اندر واقع ایک ری ایکٹر میں تابکار مادہ اور دھول موجود ہے جس کی وجہ سے اس کے گرنے کا خطرہ ہے۔

1986 میں اس پاور سٹیشن میں شفٹ مینیجر کے طور پر کام کرنے والے لینر سگیدیولن کا کہنا ہے کہ عمارت کا بوسیدہ ہونا تشویش ناک ہے۔ لیذر سگیدیولن حادثے کے روز کام پر نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جوہری فضلے کو تلف کرنے پر بھی کام جاری ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ عمارت اچانک منہدم ہو سکتی ہے۔ اس پلانٹ کے اندر بڑی بڑی دراڑیں پڑ رہی ہیں اور سوراخ ہو رہے ہیں، تو نیا تعمیر کردہ ڈھانچہ عمارت کو مضبوط بنانے میں کام آئے گا۔‘

اس نئے ڈھانچے کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ریکٹر سکیل پر چھ کی شدت کے زلزلے، درجہ تین کے طوفان اور 45 ڈگری درجہ حرارت کو برداشت کرنے کی قوت رکھتا ہے۔

اس ڈھانچے کو ایک جگہ جوڑتے وقت جوہری پلانٹ کے ارد گرد محفوظ دیوار بناکر تابکاری کے خطرات کو کم کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو ملازم یہاں کام کرتے ہیں ان کو کم سے کم تابکاری کا سامنا ہوا۔

اس منصوبے سے منسلک رون ہنک کا کہنا ہے کہ اس نئے ڈھانچے کو جب پلانٹ کے اوپر نصب کیا جائے گا تب تابکاری کا خطرہ زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چرنوبل کے جوہری پلانٹ میں1986 میں ہونے والا حادثہ دنیا کا سب سے خطرناک جوہری حادثہ تھا

رون ہنک کا مزيد کہنا تھا کہ ’اس مرحلے میں جو کام ہو گا وہ سب سے خطرناک ہو گا۔ اس کام کے لیے ڈھانچے کے اندر جانا ہوگا اور اس سے ملازمین کو تابکاری کی زد میں آنے کا خطرہ ہے۔‘

’ملازمین 15 روز کام کریں گے اور 15 روز کی چھٹی کریں گے اور اس طرح سے وہ صرف نصف ماہ کام کریں گے۔‘

اس مہنگے ترین منصوبے کو انجام دینے میں ایک بہت بڑی رقم خرچ ہوئی ہے اور اس پر ابھی تک سوا دو ارب یورو خرچ ہو چکے ہیں۔

اس منصوبے میں یورپی کمیشن اور امریکہ بڑی سرمایہ کاری فراہم کر رہے ہیں۔

آئندہ ہفتے اس منصوبے کو سرمایہ فراہم کرنے والے ممالک کی ایک کانفرنس منعقد ہونے والی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل میں اب بھی دس کروڑ یورو درکار ہیں۔

امید ہے کہ نومبر 2017 تک اس منصوبے کو مکمل کر لیا جائے گا اور اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو گیا تو اس جوہری پلانٹ پر حادثے کو 31 برس گزر چکے ہوں گے اور یہ ڈھانچہ اس جوہری پلانٹ کو صدیوں تک محفوظ رکھے گا۔

چرنوبل کے جوہری پلانٹ میں1986 میں ہونے والا حادثہ دنیا کا سب سے خطرناک جوہری حادثہ تھا جس میں ریڈیائی مواد یورپ کے بڑے رقبے پر پھیل گیا تھا۔

اسی بارے میں