سربرینیتزا قتل عام: سات افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سربرینیتزا میں تین دن کے دوران تقریباً 8000 بوسنین مرد اور لڑکوں کو قتل کر دیا گیا تھا جو کہ ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سر زمین پر سب سے بڑا ظلم ہے

سربیا کی پولیس نے سنہ 1995 میں مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیتزا کے نواحی علاقے میں ایک وئیر ہاوس میں 1000 سے زائد مسلمانوں کے قتلِ عام کے الزام میں سات افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

سربیا اور بوسنیا کے وکلا استغاثہ کا کہنا ہے سربرینیتزا قتل عام کے سلسلے میں گرفتار ہونے والے یہ پہلے سات افراد ہیں۔

اس سے قبل سربیا نے کچھ افراد کو حراست میں لیا تھا جن کا اس قتلِ عام سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔

سربیا نے سنہ 2011 میں سابق بوسنین سرب کمانڈر راتکو ملادِچ کو ایک عالمی عدالت کے حوالے کیا تھا۔

راتکو ملادِچ پر اس قتلِ عام کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے اور اس وقت ان کا مقدمہ ہیگ میں زیرِ سماعت ہے۔

ہیگ میں قائم عالمی عدالت سربرینیتزا قتلِ عام کے سلسلے میں اب تک کئی افراد کو نسل کشی کا مجرم قرار سے چکی ہے۔

تاہم بلغراد میں بی بی سی کے نامہ نگار گائی ڈیلانی کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز کی جانے والی گرفتاریوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس قسم کا پہلا کیس ہے جس کی سماعت سربیا میں ہو گی۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں تین سال قبل سربیا اور بوسنیا کے جنگی جرائم کی عدالتوں کے باہمی تعاون کے آغاز کے بعد سب سے بڑی پیش رفت ہے۔

سربرینیتزا میں تین دن کے دوران تقریباً 8000 بوسنائی مرد اور لڑکوں کو قتل کر دیا گیا تھا جو کہ ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سر زمین پر سب سے بڑا ظلم ہے۔

یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل پیش آیا جب 20000 مہاجرین سرب فوجوں سے بچنے کے لیے سربرینیتزا آئے۔

مرکزی سرب وکیلِ استغاثہ برونو وِکارِچ نے امریکی خبر رساں ایجینسی ایسوسی ایٹِڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ:’اس بات پر زور دینا بہت ضروری ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ہمارا دفتر سربرینیتزا میں شہریوں اور جنگی قیدیوں کے قتلِ عام سے متعلق کام کر رہا ہے‘۔

مسٹر وِکارِچ کا کہنا تھا کہ یہ سربیا کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ:’ ہم نے کبھی اتنے بڑے جرم پر کام نہیں کیا۔سربیا کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ سربرینیتزا پر عدالتی کارروائی کے ذریعے ایک شفاف پوزیشن اپنائے۔‘

اے پی کے مطابق بدھ کے روز گرفتار ہونے والے افراد میں نسلی سرب پولیس میں سابق کمانڈر نیڈیلجکو ملیدریگووِچ جو ’نیدجو قصائی‘ کے نام سے مشہور تھا بھی شامل ہے۔

بوسنیا میں پہلے ہی ملیدریگووِچ پر نسل کشی کا مقدمہ درج ہے تاہم تحویلِ مجرمان کے معاہدے کی غیر موجودگی کے باعث وہ اب تک سربیا میں آزادی سے ایک کامیاب بزنس مین کی حیثیت میں زندگی گزار رہا تھا۔

سربیا اور بوسنیا کی عدالتوں کے مابین معاہدے کا مطلب ہے کہ ان ساتوں گرفتارشدگان پر اب بلغراد میں نسل کشی کا مقدمہ چلے گا۔

اس سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں بوسنیا اور سربیا نے 15 مشتبہ افراد کو جن پر سنہ 1993 میں ایک ٹرین سے 19 افراد کو اتار کر قتل کرنے کا شبہ تھا، گرفتار کر لیا تھا۔ ان میں سے پانچ افراد سرب پولیسں نے جبکہ 10 بوسنیا کی پولیس نے گرفتار کیے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سرب حکام کے لیے جنگی جرائم میں ملوث مشتبہ افرادکےخلاف کارروائی مشکل امر ثابت ہو سکتا ہے۔

اکثر سرب زمانہِ جنگ کے لیڈروں جن میں مسٹر ملادوچ اور سابق بوسنین سرب صدر رادوان کرادچ جن پر ہیگ میں مقدمہ چل رہا ہے جیسے لوگ شامل ہیں، کو اپنا ہیرو اور مغربی سازشوں کا شکار مانتے ہیں۔

تاہم یہ سمجھا جا رہا ہے کہ سربیا کی حکومت ان مقدمات کو آگے بڑھانے میں اس لیے بھی چابک دستی دکھا رہی ہے کیونکہ وہ یورپین یونین میں شامل ہونا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں