شامی فوج کا امریکی ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شامی ٹی وی پر ڈرون کے ملبے کی تصاویر بھی نشر کی گئی ہیں

شام میں سرکاری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے شمالی مغربی علاقے میں ایک امریکی ڈرون طیارے کو مار گرایا ہے۔

فوج کے مطابق اس جاسوس طیارے کو صدر بشار الاسد کے حامیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے لاذقیہ نامی شہر کے اوپر نشانہ بنایا گیا۔

امریکی محکمۂ دفاع نے اپنے ایک ڈرون طیارے سے رابطہ منقطع ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اسے گرایا گیا ہے۔

اگر شامی فوج کے اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف اتحادیوں کی کارروائی کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ شام نے کسی امریکی طیارے پر حملہ کیا ہے۔

شام دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری کارروائی میں اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ ایم کیو 1 ڈرون طیارے سے شمال مغربی شام کی فضا میں رابطہ منقطع ہو گیا

ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نیوز نے ڈرون طیارے کو ’دشمن طیارہ‘ قرار دیا ہے تاہم اس بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ ایم کیو 1 ڈرون طیارے سے شمال مغربی شام کی فضا میں رابطہ منقطع ہوا۔

گذشتہ ماہ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شامی صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ شامی جنگجوؤں کو تیسرے فریق کے ذریعے اتحادیوں کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملوں کے بارے میں ’پیغام پہنچا دیا گیا تھا۔‘

اسی بارے میں