’تیونس دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ اقلیتی درندے ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے، صدر الباجی قائد السبسی

تیونس میں شدت پسندوں کے حملے میں غیرملکیوں سمیت 19 افراد کی ہلاکت کے بعد صدر الباجی قاید السبسی نے کہا ہے ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔

صدر السبسی نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی میں کسی قسم کا رحم نہیں کیا جائے گا۔

عالمی برادری نے بھی تیونس میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تیونس کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو تیونس کی پارلیمنٹ کے قریب واقع عجائب گھر پر مسلح افراد نے حملہ کر کے 17 غیر ملکی سیاحوں اور دو مقامی شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

سرکاری ٹیلی وژن پر بدھ کی شب خطاب میں تیونس کے صدر السبسی کا کہنا تھا کہ ’یہ اقلیتی درندے ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے۔ ہم ان کے خلاف آخری حد تک بغیر رحم کیے مزاحمت کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’جمہوریت فاتح ہو گی اور یہ قائم رہے گی۔‘

تیونس کے وزیرِ اعظم الحبيب الصيد نے بھی اس بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا ’یہ ہماری تاریخ کا ایک سنگین لمحہ اور ہمارے مستقبل کے لیے دفاع کا وقت ہے۔‘

حملے کے وقت پارلیمان میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قانون سازی پر ہی بحث جاری تھی اور ہنگامی طور پر پارلیمان کو خالی کروایا گیا تھا تاہم بعد ازاں بدھ کی شام کو پارلیمان کا غیر معمولی اجلاس طلب کیا گیا۔

مسلح حملہ آوروں نے دارالحکومت تیونس میں پارلیمان کے قریب واقع بباردو عجائب گھر پر حملہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کی زد میں آنے والا عجائب گھر ملک کی پارلیمان کے قریب واقع ہے

حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے سیاحوں میں اٹلی، سپین، فرانس، آسٹریلیا، کولمبیا، جاپان اور پولینڈ کے شہری شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو حملہ آور اور ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو ا۔ اس حملے میں مقامی افراد اور سیاحوں سمیت 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عجائب گھر کے ایک ملازم نے بتایا کہ شدت پسندوں نے اس وقت سیاحوں کو نشانہ بنایا جب وہ بسوں سے اتر کر عجائب گھر کی جانب جانے لگے۔

بباردو عجائب گھر غیرملکی سیاحوں میں کافی مقبول ہے۔ تیونس کی معیشت میں سیاحت اہم صنعت ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح تیونس کا رخ کرتے ہیں۔

حملے کے بعد تیونس کے مرکزی علاقوں میں مقامی شہریوں نے باہر نکل کر احتجاج کیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد حملے کی زد میں آنے والے عجائب گھر کے باہر بھی جمع ہوئی۔ انھوں نے وہاں شمعیں بھی روشن کیں۔

عالمی برادری کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں تیونس میں حملوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے قبل بھی تیونس میں سیاحوں پر حملے ہوچکے ہیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بان کی مون نے آج کے حملے کی شدید ترین مذمت کی ہے اور انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔‘

ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اعلان کیا ہے کہ ’امریکہ دہشت گردوں کے تشدد کے خلاف اپنے ساتھی تیونس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔‘

یورپی یونین کی جانب سے جاری بیان میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تیونس کی بھرپور مدد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تیونس میں ماضی میں بھی غیر ملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

سنہ 2002 میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں یہاں گیارہ سیاحوں سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ہمسایہ ملک لیبیا میں بدامنی کی وجہ سے تیونس میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ خود تیونس سے بڑی تعداد میں لوگ عراق اور شام میں لڑنے کے لیے گئے ہیں اور ان کے بارے بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ یہ واپسی پر ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں