’یونان کی معیشت کو دلیرانہ اقدامات کی ضرورت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption یونان میں بائیں بازو کے وزیرِ اعظم یورپی رہنماؤں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ مجوزہ اصلاحات یونان کو انتہائی ضروری فنڈ مہیا کرنے کے لیے کافی ہیں

برسلز میں یورپی ملکوں کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر ایک بیان میں یونان کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ایتھنز کی معیشت کو پھر سے تازہ دم کرنے کے لیے ’دلیرانہ اقدامات‘ کی ضرورت ہے۔

یونانی وزیرِ اعظم ایلیکس تسیپرس برسلز میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر جرمنی، فرانس اور یورپی اتحاد کے مختلف اداروں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

یونان معاہدہ: ’ اصل مشکلات ابھی آنے کو ہیں‘

یورپی رہنما یونان کے قرض کے معاملے کے ساتھ ساتھ دو روزہ اجلاس میں توانائی، سکیورٹی اور یوکرین کے بحران کے تناظر میں روس کے ساتھ تعلقات پر بھی بات چیت کریں گے۔

یوکرین کے وزیرِ اعظم نے یورپی اتحاد سے کہا ہے کہ ماسکو کے خلاف پابندیوں کے مسئلے پر ان کے ارادے غیر متزلزل رہنے چاہییں۔

توقع ہے کہ اس کانفرنس میں اعلان کیا جائے گا کہ روس کے خلاف پابندیاں اس وقت تک لگی رہیں جب تک فروری میں منسِک میں ہونے والے امن معاہدے پر پوری طرح عمل نہیں کیا جاتا۔

یونان اور اس کے عالمی قرض دہندگان کے درمیان تنازع گرچہ رسمی طور پر اس کانفرنس کے ایجنڈے پر نہیں ہے تاہم نامہ نگار کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ اس کانفرنس میں موضوعِ بحث بنا رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی رہنما یونان کے قرض کے معاملے کے ساتھ ساتھ دو روزہ اجلاس میں توانائی، سکیورٹی اور یوکرین کے بحران کے تناظر میں روس کے ساتھ تعلقات پر بھی بات چیت کریں گے

جمعرات کو برسلز پہنچنے پر یونانی وزیرِ اعظم تسیپرس کا کہنا تھا کہ ’ضرورت اس امر کی ہے کہ یورپی اتحاد ایسے دلیرانہ سیاسی اقدامات کرے جن میں جمہوریت اور معاہدوں دونوں کے لیے احترام کی جھلک نظر آتی ہو تاکہ بحران کو پیچھے چھوڑ کر ترقی کی طرف بڑھا جا سکے۔‘

یونان میں بائیں بازو کے وزیرِ اعظم یورپی رہنماؤں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ مجوزہ اصلاحات یونان کو انتہائی ضروری فنڈ مہیا کرنے کے لیے کافی ہیں جن سے ایتھنز دیوالیہ ہونے سے بھی بچ جائے گا اور اسے یورو زون سے نکلنا بھی نہیں پڑے گا۔

عالمی قرض دہندگان کہتے ہیں کہ وہ یونان کو 240 بلین یورو کے بیل آؤٹ پیکج پر اس سال جون کے آخر تک مدد کرتے رہنے پر تیار ہیں۔ لیکن یونانی وزیرِ اعظم کے منصوبوں کی شدید مخالفت ہوئی ہے خصوصاً یورپی رہنماؤں نے جن میں جرمنی کی رہنما خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان منصوبوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

برسلز پہنچنے پر جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ یونان کے مسئلے پر کسی بریک تھرو کا امکان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ’یونان کے مسئلے کے حل کی توقع نہ رکھیں۔ فیصلے یورو گروپ میں ہوتے ہیں اور صورتِ حال آئندہ ابھی یونہی رہے گی۔‘

دریں اثناء برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ سنہ 2010 میں اقتدار میں آئے تو ’یوں سمجھیے کہ جیسے برطانیہ اور یونان ایک ہی کشتی کے مسافر تھے‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بدھ کو جو برطانوی بجٹ پیش کیا گیا اس سے ظاہر ہے کہ برطانیہ کی معیشت اب ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔

بیلجیئم کے وزیرِ اعظم نے یورپی یونین کے اس فیصلے کی مذمت کی ان کے ملک اور یورپی بلاک کے چھوٹے ممالک کی رائے لیے بغیر برسلز کے اجلاس میں یونان کے قرض کے مسئلے پر بحث کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں