تیونس: حملہ آوروں سے تعلق کے شبے میں چار افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کے بڑے شہروں کی سکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا

تیونس میں حکام کا کہنا ہے کہ عجائب گھر پر حملہ کرنے والے مسلح افراد سے براہ راست تعلق کی بنیاد پر چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مسلح حملہ آوروں نے دارالحکومت تیونس میں پارلیمان کے قریب واقع باردو عجائب گھر پر حملہ کر کے 17 سیاحوں کو ہلاک اور 40 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔

اس سے پہلے تیونس کے وزیرِاعظم نے کہا تھا کہ سیاحوں پر حملہ کرنے والے بندوق برداروں میں سے ایک حکام کی نظروں میں تھا۔

حکام کی جانب سے گرفتار کیے جانے والے افراد اور ان کے حملہ آوروں سے تعلق کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

صدارتی دفتر سے جاری ہونے والہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر الباجی قاید السبسی نے فوجی حکام سے ملاقات کی اور اس میں طے کیا کہ فوج ملک کے بڑے شہروں کی حفاظت کرے گی۔

صدر کے بیان کے مطابق ’تیونس کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور اب شدت پسندوں کی کارروائیاں پہاڑوں سے شہروں میں منتقل ہو گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کہا جا رہا ہے کہ حملہ آور تیونس کی پارلیمان پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن جب وہ ایسا نہ کر سکے تو انھوں نے عجائب گھر کا رخ کیا

چار افراد کی گرفتاری کی تصدیق سے پہلے وزیرِ اعظم حبیب الصید نے آر ٹی ایل ریڈیو کو بتایا کہ سکیورٹی سروسز کے ریڈار میں ایک حملہ آور یٰسین لابیدی تھا لیکن حکام کو اس کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں اور نہ ہی انھیں اس کے کسی شدت پسند گروہ سے روابط کا علم تھا۔

بدھ کو ہونے والے حملے میں دو تیونس کے شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا۔

دونوں بندوق برداروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس بات پر تشویش جاری ہے کہ ان کے کس سے روابط تھے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں کے دو یا تین ساتھی ابھی مفرور ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دونوں حملہ آور ’شاید‘ تیونس کے شہری تھے۔ دوسرے حملہ آور کا نام حاتم خاکانوئی بتایا جا رہا ہے۔

حملے کی زد میں آنے والا عجائب گھر ملک کی پارلیمان کے قریب واقع ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے سیاحوں میں اٹلی، سپین، فرانس، آسٹریلیا، کولمبیا، جاپان اور پولینڈ کے شہری شامل ہیں۔

حملے کے بعد تیونس کے بعد صدر الباجی قاید السبسی نے کہا تھا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن پر بدھ کی شب خطاب میں تیونس کے صدر السبسی کا کہنا تھا کہ ’یہ اقلیتی درندے ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے۔ ہم ان کے خلاف آخری حد تک بغیر رحم کیے مزاحمت کریں گے۔ جمہوریت فاتح ہو گی اور یہ قائم رہے گی۔‘

حملے کے وقت پارلیمان میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قانون سازی پر ہی بحث جاری تھی اور ہنگامی طور پر پارلیمان کو خالی کروایا گیا تھا تاہم بعد ازاں بدھ کی شام کو پارلیمان کا غیر معمولی اجلاس طلب کیا گیا۔

ایک ممبر پارلیمان سیدہ اونیسی نے بی بی سی کے ریڈیو فور کے ’ٹوڈے‘ پروگرام میں بتایا کہ سکیورٹی سروسز نے کہا تھا کہ حملے کا اصل ہدف پارلیمان تھی۔

انھوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو جب پارلیمان میں نہیں گھسنے دیا گیا تو انھوں نے میوزیم کا رخ کیا۔

حملے کے بعد تیونس کے مرکزی علاقوں میں مقامی شہریوں نے باہر نکل کر احتجاج کیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد حملے کی زد میں آنے والے عجائب گھر کے باہر بھی جمع ہوئی۔ انھوں نے وہاں شمعیں بھی روشن کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیونس میں اب حملہ آوروں کے ساتھیوں کی تلاش جاری ہے

عالمی برادری کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں تیونس میں حملوں کی مذمت کی گئی اور عالمی رہنماؤں نے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں تیونس کو تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی بھی عمل تیونس کی جمہوریت کی طرف جاری سفر کو واپس نہیں کر سکتا۔ بیان میں انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور دہشت گردوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا۔

بباردو عجائب گھر غیرملکی سیاحوں میں کافی مقبول ہے۔ تیونس کی معیشت میں سیاحت اہم صنعت ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح تیونس کا رخ کرتے ہیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اعلان کیا ہے کہ ’امریکہ دہشت گردوں کے تشدد کے خلاف اپنے ساتھی تیونس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔‘

یورپی یونین کی جانب سے جاری بیان میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تیونس کی بھرپور مدد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تیونس میں ماضی میں بھی غیر ملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

سنہ 2002 میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں یہاں 11 سیاحوں سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ہمسایہ ملک لیبیا میں بدامنی کی وجہ سے تیونس میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ خود تیونس سے بڑی تعداد میں لوگ عراق اور شام میں لڑنے کے لیے گئے ہیں اور ان کے بارے بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ یہ واپسی پر ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں