ورجنیا میں سیاہ فام نوجوان گرفتار، تحقیقات کا حکم

Image caption جانسن کی خون میں لت پت اور زمین پر گھسیٹے جانے کی وڈیوز اور تصاویر ہر جگہ گردش کر رہی ہیں

امریکی ریاست ورجنیا میں ایک سیاہ فام طالب علم پر تشدد اور گرفتاری پر وہاں کے گورنر نے تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔

نشہ آور مشروبات کے استعمال کی نگرانی کرنے والے ادارے اے بی سی کے اہلکاروں نے مارٹیز جانسن نامی ایک 20 سالہ سیاہ فام نوجوان کو ایک پب کے باہر سے بدھ کے روزگرفتار کیا تھا۔جس کے بعد سے یونیورسٹی آف ورجنیا میں احتجاج ہو رہے ہیں۔

جانسن کی خون میں لت پت اور زمین پر گھسیٹے جانے کی وڈیوز اور تصاویر ہر جگہ گردش کر رہی ہیں۔

اے بی سی کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ’جانسن بحث کر رہے تھے اور بہت جارحانہ ہو رہے تھے۔‘

تاہم یونیورسٹی آف ورجنیا کے ایک طالب علم بیوبرن کا جنھوں نے جانسن کی گرفتاری کی تصاویر لی تھیں کہنا ہے کہ پولیس نے طاقت کا بلا جواز استعمال کیا۔

بیوبرن نے یونیورسٹی کے مقامی اخبار کیوالیر ڈیلی کو بتایا’ اسے قابو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ بلکل جارحانہ نہیں ہو رہا تھا۔‘

اے بی سی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ یونیفارم پہنے اے بی سی کے اہلکاروں نے ایک نامعلوم شخص سے اس وقت رابطہ کیا جب اس نے ’دی کارنر‘ نامی علاقے میں لائسنس یافتہ پب میں جانے سے انکار کر دیا تھا۔

عدالت کے ریکارڈ کے مطابق جانسن پر طاقت کا استعمال کیے بغیر انصاف فراہم کرنے میں رکاوٹ ڈالنے اور لوگوں کو اکسانے یا نشے میں ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

Image caption اے بی سی کے اہلکاروں نے مارٹیز جانسن کو ورجنیا میں ایک پب کے باہر سے بدھ کے روز گرفتار کیا

ڈیموکریٹک گورنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ گورنر مک آلیف نے اس واقع کا نوٹس لیتے ہوئے پبلک سیفٹی کے سیکریٹری کو طاقت کے استعمال پر غیر جانبدار تحقیقات کرانے کی ہدایت کی ہے۔

اے بی سی کے مقامی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وہ اس تحقیقات میں تعاون کریں گے اور اس واقع میں شامل اہلکاروں کو دفتری فرائض دے دیے گئے ہیں۔

بدھ کی شام سینکڑوں طلبا نے یونیورسٹی آف ورجنیا میں جانسن کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کیا۔

اپنے ساتھی طلبا کے بازو پکڑے جانسن نے ان کے لیے احتجاج کرنے والے ہجوم سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں آپ سب سے منت کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کی عزت کریں اور ہم واقعی ایک برادری ہیں۔‘

اسی بارے میں